ایودھیا: مسجد کے لئے ہندو کنبے نے کی زمین دینے کی پیشکش

راج نارائن داس اس سلسلے میں وہ جلد ہی ڈی ایم سے مل کر اپنی تجویز رکھیں گے۔ راج نارائن داس کے مطابق ان کے پاس بڑا گاؤں کے نزدیک سارنگاپور روڈ پر پانچ ایکڑ زمین ہے اس میں مسجد تعمیر کی جاسکتی ہے۔

علامتی تصویر
علامتی تصویر

یو این آئی

ایودھیا: ایودھیا میں بابری مسجد۔ رام مندر متنازع اراضی ملکیت معاملے میں سپریم کورٹ کی جانب سے متنازع زمین کو ہندو فریق کو دینے اور مسجد کی تعمیر کے لئے 5 ایکڑ زمین فراہم کرنے کے فیصلے کے بعد ایودھیا کے مقامی افراد کی جانب سے مسجد کے لئے زمین وقف کرنے کی تجاویز آنی شروع ہوگئی ہیں۔

عدالت عظمی نے متنازع زمین پر رام مندر کی تعمیر کرنے اور مسلم فریق کو مسجد بنانے کے لئے ایودھیا میں پانچ ایکڑ زمین فراہم کرنے کا فیصلہ سنایا تھا۔ اس ضمن میں جہاں ضلع انتظامیہ نے زمین کی تلاش شروع کردی ہے تو وہیں ضلع میں بڑا گاؤں کے نزدیک سارنگ پور روڈ پر راج نارائن داس مسجد بنانے کے لئے اپنی ملکیت کی پانچ ایکڑ زمین دینے کو تیار ہیں۔

اطلاعات کے مطابق راج نارائن داس اس سلسلے میں وہ جلد ہی ڈی ایم سے مل کر اپنی تجویز رکھیں گے۔ راج نارائن داس کے مطابق ان کے پاس بڑا گاؤں کے نزدیک سارنگاپور روڈ پر پانچ ایکڑ زمین ہے اس میں مسجد تعمیر کی جاسکتی ہے۔

ڈی ایم نے مسجد کی زمین کے لئے سبھی پانچ تحصلیوں سے رپورٹ طلب کی ہے۔ جس کے بعد صدر تحصیل کا سہنوا گرام ایک بار پھر سرخیوں میں آگیا ہے۔ اس کے علاوہ سوہاول، بیکا پور، صدر تحصیل علاقے میں محکمہ ریونیو نے زمین کی تلاش شروع کردی ہے۔