مہاراشٹر: مسلم شخص سے بھیڑ نے کہا ’لگاؤ جے شری رام کا نعرہ‘، ہو جاتی موب لنچنگ، لیکن..

ایک ہندو میاں-بیوی نے عمران اسماعیل کی جان اس وقت غنڈہ صفت افراد کے گروپ سے بچائی جب زد و کوب کی وجہ سے وہ چیخ رہا تھا اور جان کی دہائی مانگ رہا تھا۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا

قومی آوازبیورو

مسلم شخص سے ’جے شری رام‘ کا نعرہ لگوانا اور منع کرنے یا پھر نعرہ لگانے کے باوجود پٹائی کرنے کا عمل ملک میں بہت تیزی کے ساتھ بڑھ رہا ہے۔ کچھ ایسا ہی واقعہ 19 جولائی کو مہاراشٹر کے اورنگ آباد میں پیش آیا۔ کچھ نامعلوم لوگوں کی بھیڑ نے ایک مسلم نوجوان کی پٹائی کی اور اسے ’جے شری رام‘ کا نعرہ لگانے کے لیے مجبور کیا۔ حالات کچھ ایسے بن گئے تھے کہ مسلم شخص کو اپنی جان خطرے میں نظر آنے لگی اور ممکن ہے کہ وہ موب لنچنگ کا شکار ہو جاتا، لیکن اس کے ساتھ کچھ ایسا ہوا جس نے نہ صرف اس کی جان بچائی بلکہ انسانیت کی بھی لاج رکھ لی۔

دراصل ایک پرائیویٹ ہوٹل میں ملازم عمران اسماعیل بیگم پور علاقہ میں کچھ غنڈہ صفت افراد کے درمیان پھنس گئے تھے۔ پولس کو دی گئی تحریری شکایت میں اس نے بتایا کہ ’’تقریباً دس غنڈوں نے مجھے روکا۔ واقعہ کے وقت میں بائیک سے اپنے گھر لوٹ رہا تھا۔‘‘ انگریزی روزنامہ ’ٹائمز آف انڈیا‘ میں شائع ایک رپورٹ کے مطابق ان لوگوں نے عمران کے ساتھ مار پیٹ کی اور ’جے شری رام‘ کا نعرہ لگانے کے لیے مجبور کیا۔

بتایا جاتا ہے کہ جب عمران کو پیٹا جا رہا تھا تو وہ چیخ چیخ کر لوگوں کو مدد کے لیے پکار رہا تھا۔ اس چیخ کو سن کر وہاں رہائش پذیر ایک ہندو فیملی گھر سے باہر نکلی اور بڑی مشکل سے ان غنڈوں کے چنگل سے عمران کو نکال کر اپنے گھر میں بلا لیا۔ عمران کا کہنا ہے کہ ’’ہندو میاں-بیوی نے حملہ آوروں سے اپیل کی کہ وہ کوئی غلط کام نہ کریں اور مار پیٹ سے باز رہیں۔‘‘ عمران نے یہ بھی بتایا کہ ’’ہندو جوڑے نے بدمعاشوں کے ہاتھ سے موٹر سائیکل کی چابی لے لی تاکہ میں بہ آسانی اپنے گھر جا سکوں۔‘‘

اس واقعہ کی جانچ حالانکہ پولس کر رہی ہے لیکن ’ٹائمز آف انڈیا‘ میں شائع رپورٹ کے مطابق ہندو جوڑا غنڈوں کے خوف سے اس سلسلے میں کچھ بھی کہنے سے پرہیز کر رہا ہے۔ میڈیا ذرائع کے مطابق پولس نے تعزیرات ہند کی دفعہ 153 اے اور 144 کے تحت کیس درج کیا ہے اور عمران کی شکایت کے مطابق تفتیش کا کام آگے بڑھ رہا ہے۔

بہر حال، ایسے ماحول میں جب کہ مسلمانوں و دلتوں کی موب لنچنگ ہو رہی ہے اور لوگ کھڑے ہو کر ان واقعات کا یا تو ویڈیو بناتے ہیں یا پھر خاموش ہو کر دیکھتے ہیں، یہ خوش آئند ہے کہ کچھ لوگ نفرت کے اس ماحول میں محبت بھرا دل رکھتے ہیں۔ عمران کو غنڈوں کے چنگل سے چھڑا کر ہندو جوڑے نے نہ صرف بھائی چارے کا ثبوت پیش کیا ہے بلکہ یہ بھی ظاہر کر دیا ہے کہ ملک میں گنگا-جمنی تہذیب اب بھی کئی لوگوں کے دل میں بسی ہوئی ہے۔

Published: 20 Jul 2019, 10:10 PM