ہماچل پردیش: تبدیلی مذہب ترمیمی بل 2022 منظور

کانگریس کے رکن سکھویندر سنگھ سکھو نے بل کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ یہ بل ریزرویشن کی آئینی دفعات کے خلاف ہے جس میں ریاستی اسمبلی ترمیم نہیں کرسکتی۔

ہماچل پردیش اسمبلی، تصویر آئی اے این ایس
ہماچل پردیش اسمبلی، تصویر آئی اے این ایس
user

قومی آوازبیورو

شملہ: ہماچل پردیش میں جے رام ٹھاکر حکومت نے ہفتہ کو ہماچل پردیش تبدیلی مذہب ترمیمی بل 2022 منظور کیا، جس میں زبردستی اجتماعی طور سے تبدیلی مذہب کو جرم قرار دینے اور تبدیلی مذہب کرنے والوں کو ریزرویشن کے فوائد سے محروم کرنے کے سخت التزامات کئے گئے ہیں۔

کانگریس اور مارکسی کمیونسٹ پارٹی نے اس قانون کی سخت مخالفت کی۔ کانگریس کے رکن سکھویندر سنگھ سکھو نے بل کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ یہ بل ریزرویشن کی آئینی دفعات کے خلاف ہے جس میں ریاستی اسمبلی ترمیم نہیں کرسکتی۔


سکھویندر سنگھ سکھو نے کہا کہ قبائلی علاقوں میں اگر کوئی شخص مذہب تبدیل کرتا ہے تو وہ بھی جغرافیہ کی بنیاد پر ریزرویشن کے فوائد سے محروم ہو جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ بل کو سلیکٹ کمیٹی کو بھیجا جانا چاہئے۔ سکھویندر سنگھ سکھو نے کہا کہ کانگریس بل کی حمایت کرتی ہے لیکن بل میں جو شق شامل کی گئی ہے وہ درج فہرست ذاتوں اور درج فہرست قبائل کو دیئے گئے ریزرویشن کی آئینی التزامات کو متاثر کرتی ہے۔

بل پر بات کرتے ہوئے سی پی آئی (ایم) کے رکن راکیش سنگھا نے پہلے کے بل میں ترمیم کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ یہ معاملہ ہماچل پردیش ہائی کورٹ میں زیر التوا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اسمبلی کے قواعد قانون کو پیش کرنے یا اس پر بحث کرنے کی اجازت نہیں دیتے جسے عدالت میں چیلنج کیا جاتا ہے۔

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔