جج لویا اور دوسرے معاملات کی اعلیٰ سطحی جانچ ہو: راہل گاندھی

پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کانگریس صدر راہل گاندھی

ججوں نے جو بیان دیا ہے اسے فراموش نہیں کیا جا سکتا۔ ان کے بیان سے محسوس ہو رہا ہے کہ جمہوریت خطرے میں ہے اس لیے معاملے کی سنجیدگی کو سمجھنا ضروری ہے: کانگریس

سپریم کورٹ کے چار ججوں کے ذریعہ جمعہ کی صبح کیے گئے پریس کانفرنس پر کانگریس نے انتہائی اہم میٹنگ کی اور اس سلسلے میں اپنا نظریہ لوگوں کے سامنے رکھا۔ چاروں جج نے سپریم کورٹ کے کام کاج پر جو سوال اٹھائے ہیں اس پر اپنے رد عمل کا اظہار کرنے کے لئے کانگریس صدر راہل گاندھی نے خود آکر صحافیوں سے خطاب کیا اور کہا کہ ’’یہ معاملہ کیونکہ عام لوگوں کے یقین سے جڑا ہوا ہے اور بہت اہم و حساس معاملہ ہے اس لئے کانگریس نے اس پر اپنا نظریہ سامنے رکھا۔ معاملے کی حساسیت کو دیکھتے ہوئے ہی میں نے سوچا کہ مجھے بھی اس پر کچھ کہنا چاہئے۔‘‘

راہل گاندھی نے نامہ نگاروں سے خطاب کرتے ہوئے اپنے بیان میں مزید کہا کہ ’’ججوں نے جو بیان دیا ہے اسے فراموش نہیں کیا جا سکتا۔ ان کے بیان سے محسوس ہو رہا ہے کہ جمہوریت خطرے میں ہے اس لیے اس معاملے کو دیکھنا ضروری ہے۔ جسٹس لویا کا معاملہ جو ان کے ذریعہ اٹھایا گیا ہے اس کو بھی دیکھا جانا چاہئے اور اس معاملے کی سپریم کورٹ کے ذریعہ اعلی سطحی جانچ ہونی چاہئے۔‘‘ راہل گاندھی نے ججوں کے پریس کانفرنس کو تاریخی اور بہت غیر معمولی قرار دیا۔ انھوں نے کہا کہ پورا ملک انصاف اور عدلیہ میں یقین رکھتا ہے اور انصاف کے نظام میں یقین رکھتا ہے اس لئے اس کو دیکھا جانا چاہئے‘‘۔

راہل گاندھی کے بیان سے قبل کانگریس کے ترجمان رندیپ سرجے والا نے پارٹی کے نظریات سے لوگوں کو روشناس کرایا۔ انھوں نے کہا کہ ’’آج سپریم کورٹ کے چار ججوں کا پریس کانفرنس کرنا اور عزت مآب چیف جسٹس آف انڈیا کو تحریر کردہ خط منظر عام پر لانا ایک حیران کرنے والا معاملہ ہے۔ ججوں کے ذریعہ جو باتیں سامنے لائی گئی ہیں اور پریس کانفرنس میں جس طرح کے ایشوز اٹھائے گئے ہیں وہ خوفزدہ کرنے والے ہیں۔‘‘ انھوں نے مزید کہا کہ ’’جو خط انھوں نے پریس کانفرنس میں دکھایا ہے وہ صرف پریشان کرنے والا نہیں ہے بلکہ جمہوریت کے تحفظ اور عدلیہ کی آزادی کے لیے بھی بہت اہم ہے۔ جمہوریت کو بچائے رکھنے کے لیے عدالتی نظام کو مضبوط بنائے رکھنا بہت ضروری ہے۔‘‘

رندیپ سرجے والا نے آج کے پریس کانفرنس کے آئندہ ہونے والے اثرات کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ ’’جو قدم آج ججوں نے اٹھایا ہے اس کے دور رَس اثرات دیکھنے کو ملیں گے۔ ملک کو عدلیہ پر مکمل بھروسہ ہے اور لاکھوں لوگ انصاف کے لیے عدالت کا دروازہ کھٹکھٹاتے ہیں۔‘‘ جج لویا کی موت پر چاروں ججوں کے ذریعہ چیف جسٹس دیپک مشرا کو لکھے گئے خط میں کیے گئے تذکرہ کے بارے میں رندیپ سرجے والا نے کہا کہ ’’سی بی آئی جج برج گوپال لویا کی موت پر ان کی فیملی سوال اٹھا چکی ہے۔ کانگریس بھی اس معاملے کی جانچ سینئر جج سے کرانے کا مطالبہ کرتی ہے۔‘‘

پریس کانفرنس میں کانگریس نے ججوں کے ذریعہ اٹھائے گئے اس سوال پر بھی گہری فکر کا اظہار کیا جس میں کہا گیا ہے کہ چیف جسٹس نے منمانے طریقے سے مقدموں کو اپنی پسند کے بنچ کے سپرد کیا اور اہل بنچ کو نظر انداز کیا گیا۔ کانگریس کے اس پریس کانفرنس سے قبل راہل گاندھی کی رہائش گاہ پر پارٹی کے کئی سینئر لیڈروں کی میٹنگ بھی ہوئی۔ اس میٹنگ میں سیاستداں اور ماہر قانون سلمان خورشید، منیش تیواری اور پی چدمبرم جیسے اہم لیڈران شامل ہوئے اور ججوں کے پریس کانفرنس پر کافی دیر تک تبادلہ خیال کیا گیا۔

سب سے زیادہ مقبول