تہواروں کے موقع پر آدھی رات تک لاؤڈ اسپیکر اور آتش بازی پر ہائی کورٹ سخت، مہاراشٹر حکومت سے جواب طلب

عدالت نے سوال اٹھایا کہ جب اصول و ضوابط کے مطابق رات 10 بجے کے بعد لاؤڈ اسپیکر اور ایمپلی فائر کے استعمال کی اجازت نہیں ہے، تو جلوسوں میں آدھی رات تک تیز آوازیں کیوں ہوتی ہیں۔

<div class="paragraphs"><p>بامبے ہائی کورٹ</p></div>
i

تہواروں اور جلوس کے دوران آدھی رات تک تیز آواز میں لاؤڈ اسپیکر، میوزیکل انسٹرومنٹ اور ایمپلی فائر بجانے کے معاملے میں بامبے ہائی کورٹ نے سخت موقف اختیار کیا ہے۔ عدالت نے ممبئی میں بڑھتی ہوئی صوتی اور فضائی آلودگی کا ازخود نوٹس لیتے ہوئے مہاراشٹر حکومت سے جواب طلب کیا ہے۔ عدالت نے سوال اٹھایا کہ جب اصول و ضوابط کے مطابق رات 10 بجے کے بعد لاؤڈ اسپیکر اور ایمپلی فائر کے استعمال کی اجازت نہیں ہے، تو جلوسوں میں آدھی رات تک تیز آوازیں کیوں ہوتی ہیں۔ عدالت نے یہ بھی کہا کہ ممبئی میں آلودگی کی صورتحال سنگین ہے، جس کے مدنظر پٹاخوں پر پابندی عائد کرنے پر غور کرنے کا یہ صحیح وقت ہو سکتا ہے۔

جسٹس جی ایس کلکرنی اور جسٹس نیلا گوکھلے کی ڈویژن بینچ نے 21 ستمبر کے حکم میں کہا کہ تہوار منانے اور جلوس نکالنے پر کوئی اعتراض نہیں ہے، لیکن اس کا انعقاد اس طرح کیا جانا چاہیے کہ عام شہریوں کے حقوق متاثر نہ ہوں۔ عدالت نے کہا کہ تیز آواز کا اثر خصوصاً بیمار افراد، بزرگوں اور طلباء پر پڑتا ہے۔ عدالت نے کہا کہ تقریبات ضروری ہیں، لیکن ہزاروں شہریوں کے قانونی حقوق کی خلاف ورزی کرکے نہیں۔ لوگوں کو مسلسل ہونے والے شور اور اس سے ہونے والی پریشانی کو خاموشی سے برداشت کرنے پر مجبور نہیں کیا جا سکتا۔


عدالت نے آدھی رات تک لاؤڈ اسپیکر اور تیز موسیقی بجانے کی اجازت دیے جانے کی دلیل پر سوال اٹھایا۔ بینچ نے کہا کہ جب ایسے آلات کے استعمال کی اجازت رات 10 بجے تک ہی ہے، تو جلوسوں میں رات 12 بجے تک تیز آواز میں موسیقی بجانے کی اجازت دینے کی کوئی معقول وجہ نظر نہیں آتی۔ عدالت نے شور پر قابو پانے سے متعلق ضوابط کو زمینی سطح پر نافذ نہ کیے جانے پر بھی تشویش ظاہر کی۔ اسی معاملے کو لے کر عدالت نے ازخود نوٹس لیتے ہوئے مفاد عامہ کی عرضی شروع کی ہے۔ ممبئی میں فضائی آلودگی کی صورتحال کو دیکھتے ہوئے ہائی کورٹ نے پٹاخوں کے حوالے سے بھی سخت تبصرہ کیا۔ عدالت نے کہا کہ یہ صحیح وقت ہو سکتا ہے، جب شور اور فضائی آلودگی پھیلانے والے پٹاخوں پر پابندی عائد کرنے پر غور کیا جائے۔ عدالت کا کہنا ہے کہ پٹاخوں سے نکلنے والا دھواں اور شور ماحول کو متاثر کرتا ہے۔ ایسے میں صحت مند ماحول برقرار رکھنے کے لیے اس معاملے پر سنجیدگی سے غور کرنا ضروری ہے۔

ہائی کورٹ نے ریاستی حکومت کو حکم میں اٹھائے گئے مسائل پر حلف نامہ داخل کرنے کی ہدایت دی ہے۔ معاملے کی اگلی سماعت 22 ستمبر کو ہوگی۔ ریاستی حکومت کی جانب سے ایڈووکیٹ جنرل ملند ساٹھے اور ایڈیشنل سرکاری وکیل پی این دیوان پیش ہوئے۔ اسی دوران ہائی کورٹ کی دوسری بینچ نے پونے کے رہائشیوں کی ایک مفاد عامہ کی عرضی پر بھی مہاراشٹر حکومت سے جواب طلب کیا ہے۔ 2016 میں شور کی آلودگی سے متعلق عدالت کے فیصلے کو مقررہ وقت کے اندر نافذ کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ عرضی گزاروں نے شور سے متعلق ضوابط کی خلاف ورزی کی نگرانی کے لیے ایک آزاد تھرڈ پارٹی ایجنسی مقرر کرنے کا مطالبہ بھی کیا ہے۔ عدالت نے سینئر ایڈووکیٹ ایس پی چنوئے اور ایڈووکیٹ آنند پائی کو امیکس کیوری مقرر کیا ہے۔ اس معاملے کی سماعت 5 اکتوبر کو ہوگی۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔