گنیش اتسو پر شراب کی فروخت پر پابندی کو لے کر بامبے ہائی کورٹ سخت، پونے میں پابندی 10 سے گھٹا کر 2 دن کی گئی
بامبے ہائی کورٹ نے انتظامیہ سے سوال کیا کہ اگر گنیش اتسو کے دوران شراب کی فروخت پر پابندی لگانا ضروری ہے تو صرف پونے میں ہی 10 دنوں کے لیے پابندی کیوں لگائی گئی؟
پونے میں گنیش اتسو کے دوران شراب کی فروخت پر 10 دنوں تک پابندی عائد کرنے کے انتظامیہ کے فیصلے پر بامبے ہائی کورٹ نے سخت ناراضگی ظاہر کی ہے۔ عدالت کے اعتراض کے بعد پونے انتظامیہ نے اپنے فیصلے میں تبدیلی کی ہے۔ اب ضلع میں گنیش اتسو کے دوران شراب کی فروخت پر 10 دنوں کے بجائے صرف 2 دنوں کی پابندی رہے گی۔ دراصل گنیش اتسو کے پیش نظر پونے انتظامیہ نے ضلع میں 10 دنوں تک شراب کی فروخت پر پابندی عائد کرنے کا حکم جاری کیا تھا۔ انتظامیہ کے اس فیصلے کے بعد شراب فروشوں اور ہوٹل کاروباریوں نے بامبے ہائی کورٹ سے رجوع کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ 10 دنوں تک شراب کی فروخت بند رہنے سے کاروبار پر بڑا اثر پڑے گا۔
معاملے کی سماعت کے دوران ہائی کورٹ نے انتظامیہ سے سوال کیا کہ اگر گنیش اتسو کے دوران شراب کی فروخت پر پابندی لگانا ضروری ہے تو صرف پونے ضلع میں ہی 10 دنوں کے لیے پابندی کیوں لگائی گئی؟ عدالت نے ممبئی اور مہاراشٹر کے دوسرے حصوں کا بھی ذکر کرتے ہوئے انتظامیہ کے فیصلے پر سوال اٹھایا۔ سماعت کے دوران عدالت کے سخت تبصرے کے بعد انتظامیہ کو فیصلے میں تبدیلی کرنی پڑی۔ ابتدائی حکم میں جہاں 10 دنوں تک شراب کی فروخت پر پابندی لگائی گئی تھی، وہیں اب اسے کم کر کے صرف 2 دن کر دیا گیا ہے۔ یعنی گنیش اتسو کے دوران پونے میں اب پورے 10 دنوں تک شراب کی دکانیں بند نہیں رہیں گی۔ انتظامیہ کے نئے فیصلے کے مطابق صرف 2 دن شراب کی فروخت پر پابندی عائد رہے گی۔
اس پورے معاملے میں بامبے ہائی کورٹ کے اعتراض کے بعد انتظامیہ کے ذریعہ فیصلہ تبدیل کرنا، بحث کا موضوع بنا ہوا ہے۔ شراب فروشوں اور ہوٹل کاروباریوں کو بھی اس فیصلے سے راحت ملی ہے۔ وہیں عدالت کے فیصلے نے یہ معاملہ بھی موضوع بحث لایا ہے کہ تہواروں کے دوران شراب بندی کے فیصلے مختلف علاقوں میں کس بنیاد پر لیے جاتے ہیں۔
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
