کھاپ پنچایت کے فرمان پر ہائی کورٹ سخت، ’ حقہ پانی بند‘ جیسے احکامات کو بتایا بنیادی حقوق کی خلاف ورزی

معاملے میں عدالت نے پولیس کو ہدایت کی کہ وہ سماجی بائیکاٹ کے تمام کیسیز کی تحقیقات کے لیے ایڈیشنل سپرنٹنڈنٹ آف پولیس سطح کے افسر کی تقرری کی جائے اور ہرمعاملے کی جانچ 90 دنوں کے اندر مکمل کی جائے۔

<div class="paragraphs"><p>راجستھان ہائی کورٹ / آئی اے این ایس</p></div>
i
user

قومی آواز بیورو

 راجستھان ہائی کورٹ نے کھاپ اور ذات پنچائتوں کے جاری کئے جانے والے فرمانوں کو غیر آئینی قرار دیتے ہوئے سخت ریمارکس دیے ہیں۔ عدالت نے کہا کہ ایسے فرمان نہ صرف لوگوں کے بنیادی حقوق کی خلاف ورزی کرتے ہیں بلکہ قانون کی حکمرانی کو بھی کمزور کرتے ہیں۔ عدالت نے ریاستی حکومت کو ہدایت دی کہ وہ سماجی بائیکاٹ جیسے واقعات سے نمٹنے کے لیے ایک ٹھوس اور واضح پالیسی اختیار کرے۔ ہارئی کورٹ کے جج جسٹس فرزند علی کی سنگل بنچ نے 11 درخواستوں پر سماعت کرتے ہوئے یہ فیصلہ سنایا۔ ان درخواستوں میں کئی اضلاع میں سماجی بائیکاٹ اور جبر کے معاملات اٹھائے گئے تھے جن میں سروہی، باڑمیر، ناگور، بلوترا، جالور اور جودھپور شامل ہیں۔

درخواست گزاروں نے عدالت کو بتایا کہ شکایات کے باوجود انتظامیہ اکثر ایسے معاملات میں ٹھوس کارروائی کرنے میں ناکام رہتی ہے۔ عدالت نے کہا کہ کھاپ اور ذات پنچایتیں بغیر کسی قانونی اختیار کے متوازی انصاف کا نظام چلا رہی ہیں۔ یہ گروپ ’حقہ پانی بند‘ جیسے فرمان جاری کرکے لوگوں اور ان کے خاندانوں کو سماج سے الگ کردیتے ہیں جو شخصی وقار اور آزادی کی براہ راست خلاف ورزی ہے۔


عدالت نے یہ بھی تسلیم کیا کہ کئی معاملات میں لوگوں کو اپنی پسند کی شادی کرنے یا روایات کے خلاف بات کرنے پر سزا دی گئی۔ کچھ خاندانوں پر بھاری جرمانہ لگایا گیا اور انہیں سماجی طور پر الگ تھلگ کردیا گیا۔ ہائی کورٹ نے ریاستی حکومت کو ہدایت دی کہ وہ ایک اسڈینڈرڈ آپریٹنگ پروسیجر(ایس اوپی) کے ساتھ پالیسی بنائے تاکہ ایسے معاملات سے مؤثر طریقے سے نپٹا جاسکے۔ اس کے ساتھ ہی ۔ عدالت نے کہا کہ ان رہنما خطوط کو تمام اضلاع میں یکساں طور پر نافذ کیا جائے اور لوگوں کو اس سے آگاہ کیا جائے۔

عدالت نے یہ بھی کہا کہ فی الحال راجستھان میں سماجی بائیکاٹ کو جرم قرار دینے کے لیے ابھی کوئی خاص قانون نہیں ہے۔ ایسی صورت حال میں حکومت کو مہاراشٹرا کی طرز پر قانون بنانے پر غور کرنا چاہیے، جس سے مجرموں کے خلاف سخت کارروائی ہو سکے۔ اس کے علاوہ عدالت نے پولیس کو ہدایت کی کہ وہ سماجی بائیکاٹ کے تمام معاملات کی تحقیقات کے لیے ایڈیشنل سپرنٹنڈنٹ آف پولیس سطح کے افسر کی تقرری کی جائے اور ہر معاملے کی جانچ 90 دنوں کے اندر مکمل کی جائے۔