برہان وانی کی برسی: وادی کشمیر میں ہائی الرٹ، تاریخی مغل روڑ بند

فائل تصویر
فائل تصویر

قومی آوازبیورو

جموں و کشمیر میں حزب المجاہدین کے کمانڈر برہان وانی کی دوسری برسی پر سیکورٹی فورسز ہائی الرٹ پر ہیں۔ علیحدگی پسندوں کی طرف سے بلائے گئے بند کے پیش نظر امر ناتھ یاترا روک دی گئی ہے۔ تقریباً ایک ہزار امر ناتھ یاتریوں کو کٹھوعہ اور 15 ہزار یاتروں کو جموں، اودھم پور اور رام بن اضلاع میں روک دیا گیا ہے۔

غورطلب ہے کہ جنوبی کشمیر میں اننت ناگ کے کوکرناگ علاقہ میں 8 جولائی کو سیکورٹی فورسز اور ملی ٹینٹوں کے بیچ ہوئے تصادم میں حزب المجاہدین کا کمانڈر برہان وانی مارا گیا تھا۔ برہان وانی کی موت کے بعد تقریباً 4 مہینے تک پر تشدد مظاہرے ہوئے تھے۔ اس دوران تقریباً 85 لوگوں کی جان چلی گئی تھی۔

حزب المجاہدین کے سابق کمانڈر برہان مظفر وانی کی دوسری برسی اور ضلع کولگام کے ہاوورہ ریڈونی میں فوج کی احتجاجی مظاہرین پر مبینہ طور پر براہ راست فائرنگ کے نتیجے میں ایک کمسن لڑکی سمیت 3 عام شہریوں کے ہلاک اور قریب آدھا درجن دیگر کے زخمی ہوجانے کے سبب جنوبی کشمیر میں پیدا شدہ کشیدہ صورتحال کے پیش نظر تاریخی مغل روڑ پر گاڑیوں کی آمدورفت معطل کردی گئی ہے۔

سرکاری ذرائع نے بتایا ’جنوبی کشمیر کے ضلع شوپیان کو جموں خطہ کے راجوری اور پونچھ اضلاع سے جوڑنے والے تاریخی مغل روڑ کو گاڑیوں کی آمدورفت کے لئے بند کیا گیا ہے‘۔ انہوں نے بتایا ’یہ اقدام وادی خاص طور پر جنوبی کشمیرمیں پیدا شدہ لاء اینڈ آڈر کی صورتحال کے پیش نظر اٹھایا گیا ہے‘۔

سرکاری ذرائع نے بتایا کہ اگلے احکامات تک کسی بھی گاڑی کو پونچھ اور راجوری اضلاع سے جنوبی کشمیر کی طرف جانے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ انہوں نے بتایا ’یہ ایک احتیاطی قدم ہے۔

اعلیٰ حکام سے گرین سگنل ملنے کے بعد گاڑیوں کی آمد ورفت بحال کردی جائے گی‘۔ ذرائع نے بتایا کہ انتظامیہ کو خدشہ ہے کہ وادی میں 8 جولائی کو برہان وانی کی دوسری برسی کے موقع پر احتجاجی مظاہرے ہوسکتے ہیں۔ برہان وانی کو 8 جولائی 2016 ء کو ضلع اننت ناگ کے بم ڈورہ ککرناگ میں ایک جھڑپ کے دوران اپنے دو ساتھیوں کے ساتھ ہلاک کیا گیا تھا۔

(یو این آئی)

وادی کشمیر میں موبائل انٹرنیٹ خدمات اتوار کو مسلسل دوسرے دن بھی منقطع رکھی گئیں۔ وادی میں یہ خدمات ہفتہ کو حزب المجاہدین کے کمانڈر برہان مظفر وانی کی دوسری برسی کے پیش نظر معطل کی گئیں۔

سرکاری ذرائع کا کہنا ہے کہ خدمات کی معطلی کا یہ اقدام امن دشمن عناصر کی جانب سے انٹرنیٹ کے غلط استعمال کو روکنے کے لئے اٹھایا گیا ہے۔ یہ بات یہاں قابل ذکر ہے کہ وادی میں 8 جولائی 2016 کو برہان وانی کی ہلاکت کے بعد انٹرنیٹ خدمات کم از کم چار ماہ تک معطل رکھی گئی تھیں۔ وادی میں اب انٹرنیٹ خدمات منقطع کرنا حکومت کا ایک معمول بن چکا ہے۔

وادی میں انٹرنیٹ خدمات کی معطلی کی وجہ سے مقامی رہائشیوں کے ساتھ ساتھ امرناتھ گھپا کی درشن کے لئے آنے والے یاتریوں کو بھی مشکلات کا سامنا کرنا پڑرہا ہے۔ علاوہ ازیں الیکٹرانک بزنس اور بینکنگ کا نظام پوری طرح سے ٹھپ ہو کر رہ گیا ہے۔

Published: 8 Jul 2018, 9:20 AM