کیرالہ میں ہیپاٹائٹس اے کا قہر، 31 ہزار سے زیادہ معاملے درج، آلودہ پانی اور صفائی میں کمی اہم عنصر

پہلے ہیپاٹائٹس اے زیادہ تر بچوں میں دیکھا جاتا تھا لیکن حال ہی میں نوجوان اور چھوٹے بچے بھی اس کا شکار ہو رہے ہیں جو کہ سنگین تشویش کا موضوع بن گیا ہے۔ یہ بیماری سیدطے طور پر جگر کو متاثر کرتی ہے۔

ماحولیاتی تبدیلیاں، ہیپاٹائٹس ای کیسے زیادہ پھیل رہا ہے؟
i
user

قومی آواز بیورو

مدھیہ پردیش میں آلودہ پانی کے سبب ایک درجن سے زائد لوگوں کی موت کے بعد اب کیرالہ سرخیوں میں ہے۔ کیرالہ میں ہیپا ٹائٹس اے کا خطرہ خوفناک حد تک بڑھ رہا ہے۔ اس بیماری نے تقریباً پوری ریاست کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے۔ 2025 کے آخر تک 31,536 سے زیادہ کیسز رپورٹ ہو چکے ہیں اور تقریباً 82 لوگوں کی اس بیماری کے سبب موت ہوچکی ہے۔ یہ اب تک کی سب سے خطرناک اورخوفناک تعداد مانی جارہی ہے جس نے کیرالہ میں صحت کی دیکھ بھال کے نظام پر سوالات کھڑے کر دیئے ہیں۔ کچھ رپورٹس کے مطابق ہیپاٹائٹس اے کے بڑھتے ہوئےکیسز کی بڑی وجہ صفائی کے انتظامات میں کمی بتائی جارہی ہے۔ اس کے علاوہ زیر زمین پانی مکمل طورپر آلودہ ہو چکا ہے، جس کے بارے میں خیال کیا جاتا ہے کہ یہ بیماری پھیلنے کا ایک بڑا عنصر ہے۔ رپورٹس میں کچھ چونکا دینے والے حقائق بھی سامنے آئے ہیں۔

پہلے ہیپاٹائٹس اے زیادہ تر بچوں میں دیکھا جاتا تھا لیکن حال ہی میں نوجوان اور نوعمر بچے بھی اس کا شکار ہو رہے ہیں جو کہ سنگین تشویش کا موضوع بن گیا ہے۔ یہ بیماری سیدطے طور پر جگر کو متاثر کرتی ہے۔ معلوم ہوکہ ہیپاٹائٹس اے ایک وائرل انفیکشن ہے جو سیدھے جگر کو متاثر کرتا ہے۔ جب ہیپاٹائٹس اے وائرس (ایچ اے وی) جسم میں داخل ہوتا ہے تو یہ جگر کی سوزش کا سبب بنتا ہے۔ اس بیماری کی علامات اکثر ہلکی ہوتی ہیں اور معیاری طبی علاج سے حل ہوجاتی ہیں۔ تاہم، یہ بیماری انتہائی متعدی ہے اور ایک شخص سے دوسرے شخص میں تیزی سے پھیل سکتی ہے، جو اسے خطرناک بناتی ہے۔


ہیپاٹائٹس اے وائرس بنیادی طور پر متاثرہ شخص کے خون اور غلاظت میں پایا جاتا ہے۔ یہ بیماری کئی طریقوں سے پھیل سکتی ہے۔ وائرس ایک شخص سے دوسرے شخص میں کسی متاثرہ شخص کے ذریعہ تیار کیا گیا کھانا کھانے سے، گندا یا آلودہ پانی پینے سے یا کسی متاثرہ شخص کے بہت قریب رہنے اور اس کے رابطے میں آنے سے یہ وائرس دوسرےشخص میں پھیل سکتا ہے۔ جب یہ وائرس جسم کو متاثر کرتا ہے تو جسم کا مدافعتی نظام اس سے لڑنا شروع کر دیتا ہے۔ اس دوران مختلف علامات ظاہر ہو سکتی ہیں۔ ان میں اسہال، تھکاوٹ، جوڑوں اور ہڈیوں کا درد، پیٹ کے مسائل، بھوک میں کمی، بار بار بخار، پورے جسم میں خارش اور کھردری جلد شامل ہیں۔ یہ بیماری براہ راست جگر کو متاثر کرتی ہے۔

ہیپاٹائٹس اے کی ویکسینیشن ہر ملک کے لیے یکساں نہیں ہوتی ہے۔ ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن (ڈبلیو ایچ او) اس کا تعین ملک کی صفائی کے حالات اور بیماری پھیلنے کے خطرات کی بنیاد پر کرتا ہے۔ کم آمدنی والے ممالک میں بڑے پیمانے پر ویکسینیشن کی ضرورت کم ہوتی ہے کیونکہ وہاں بچوں میں اس بیماری کی علامات اکثر ظاہر نہیں ہوتی ہیں اور انہیں قدرتی طور پر تاعمر قوت مدافعت مل جاتی ہے۔ ایسے ممالک میں تقریباً ہر بچہ انفیکشن کا شکار ہوتا ہے۔ زیادہ آمدنی والے، ترقی یافتہ ممالک میں بچوں میں وائرس سے متاثر ہونے کا امکان کم ہوتا ہے۔ ہندوستان جیسے ترقی پذیر ممالک میں، جہاں بچپن میں بچے وائرس کا شکار نہیں ہوتے ہیں۔ نتیجتاً، وہ قدرتی قوت مدافعت پیدا نہیں کر پاتے جو غریب ممالک کے بچے پیدا کرتے ہیں۔

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔