ہیما مالنی نے کی انتخابی ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی، الیکشن کمیشن نے بھیجا نوٹس

سرکاری اسکول میں انتخابی جلسہ کرنے پر ہیما مالنی کو الیکشن کمیشن نے نوٹس بھیجا ہے۔ متھرا لوک سبھا سیٹ کے چوموہاں گاؤں میں انتخابی تشہیر کے دوران ہیما نے اسکول احاطہ میں جلسہ عام سے خطاب کیا تھا۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا
user

قومی آوازبیورو

بی جے پی کے کئی لیڈر انتخابی ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی کرنے پر الیکشن کمیشن کی سختی کا شکار ہو چکے ہیں اور اب اس میں ہیما مالنی کا نام بھی شامل ہو گیا ہے۔ معاملہ متھرا کا ہے جہاں سرکاری اسکول میں بی جے پی امیدوار ہیما مالنی نے بغیر اجازت عوامی جلسہ کیا۔ معاملہ سامنے آنے کے بعد الیکشن کمیشن نے ہیما مالنی اور دیگر آرگنائزرس کو نوٹس جاری کیا ہے۔ ضلع انتخابی افسر نے ہیما سے اس سلسلے میں تین دنوں کے اندر جواب طلب کیا ہے۔

خبروں کے مطابق منگل کو بی جے پی امیدوار ہیما مالنی کا انتخابی جلسہ گاؤں آجھئی میں کرانے کا ضلع انتظامیہ سے اجازت لی گئی تھی، لیکن آخر وقت میں آرگنائزرس نے تقریب کی جگہ تبدیل کر دی اور انھوں نے گاؤں کے مجوزہ مقام کی جگہ اسکول میں ہی جلسہ کے لیے پنڈال لگوا دیئے۔ بتایا جا رہا ہے کہ جس وقت جلسہ کا انعقاد ہونا تھا اس وقت اسکول میں بچے پڑھ رہے تھے۔ اتنا ہی نہیں، ہیما مالنی کے آنے سے پہلے آرگنائزرس نے اسٹیج پر ہریانوی ڈانس بھی کرا دیا۔

اس معاملے میں اسکول کی انچارج پرنسپل سرلا دیوی شرما نے بتایا کہ جب اسکول میں پنڈال لگائے جا رہے تھے تو انھیں لگا کہ کوئی محکمہ جاتی پروگرام ہونے جا رہا ہے۔ لیکن جب انتخابی جلسہ کا پتہ چلا تو آرگنائزرس سے سوال کیا گیا، لیکن انھوں نے جواب دینے کی جگہ خاموش کرا دیا۔ انھوں نے مزید کہا کہ مجھے سمجھ میں نہیں آ رہا ہے کہ اسکول میں یہ پروگرام کیسے ہو گیا۔

معاملہ منظر عام پر آنے کے بعد آناً فاناً میں ضلع مجسٹریٹ سروگیہ رام مشر نے اس کی جانچ ایس ڈی ایم چھاتا رام دت رام کو سونپی۔ جانچ کے بعد ایس ڈی ایم چھاتا نے ہیما مالنی اور آرگنائزر کو انتخابی ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی کا نوٹس جاری کر دیا ہے۔ ڈی ایم نے بتایا کہ جواب آنے کے بعد ہی آگے کی کارروائی کی جائے گی۔

next