وادی کشمیر میں تیز آندھی سے خوف وہراس، جنگلات میں بھی آگ بھڑک اٹھی
انتظامیہ نے شہریوں سے اپیل کی ہے کہ آنے والے 24 گھنٹوں میں غیر ضروری سفر سے گریز کریں اور کمزور درختوں یا کھلی جگہوں پر کھڑے ہونے سے پرہیز کریں۔

وادی کشمیر میں شام دیر گئے اچانک چلنے والی شدید آندھی نے پورے خطے میں خوف و دہشت کی فضا قائم کر دی۔ جنوب، شمال اور وسطی کشمیر میں ہوا کے طاقتور جھونکوں نے جہاں درختوں کو جڑ سے اکھاڑ پھینکا، وہیں جنگلاتی علاقوں میں آگ بھڑکنے کے متعدد واقعات نے انتظامیہ کو ہنگامی حالت میں لا کھڑا کیا۔
شام تقریباً نو بجے کے قریب شروع ہونے والی آندھی نے چند ہی منٹوں میں معمولاتِ زندگی کو درہم برہم کر دیا۔ جنوبی کشمیر کے کولگام، اننت ناگ اور شوپیان میں کئی مقامات پر درخت جڑ سے اکھڑ گئے۔ مقامی مکینوں نے بتایا کہ بعض علاقوں میں آندھی کی وجہ سے گھروں کی کھڑکیاں تک لرز گئیں۔ وسطی کشمیر میں سرینگر اور بڈگام کے متعدد علاقوں میں آندھی کے باعث کئی ڈھانچوں کو بھی نقصان پہنچا۔ سرینگر کے لالچوک، ڈلگیٹ اور حضرت بل کے اطراف لوگوں نے اچانک آندھی سے بچنے کے لیے دکانوں اور عمارتوں میں پناہ لی۔
ذرائع نے بتایا کہ وادی کے کئی جنگلات میں آگ بھڑکنے کی اطلاع ملی ہے۔ ان کے مطابق خشک پتوں اور گھاس میں تیز آندھی کے ساتھ پیدا ہونے والی رگڑ نے آگ کو بھڑکایا۔ فائر سروسز نے بروقت کارروائی کرکے زیادہ تر مقامات پر آگ کو قابو میں کر لیا۔
محکمہ موسمیات نے بتایا کہ یہ شدید آندھی مغربی ہواؤں کے ایک کم دباؤ والے سسٹم کا نتیجہ تھی، جو دوپہر کے بعد اچانک فعال ہوا۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ گزشتہ کچھ ہفتوں سے وادی کا موسم انتہائی غیر مستحکم ہو چکا ہے، جس کے باعث اچانک آندھی، بارش یا خشک موسم کی تبدیلی کے واقعات میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔انتظامیہ نے شہریوں سے اپیل کی ہے کہ آنے والے 24 گھنٹوں میں غیر ضروری سفر سے گریز کریں اور کمزور درختوں یا کھلی جگہوں پر کھڑے ہونے سے پرہیز کریں۔