شمالی ہندوستان میں بارش کا قہر، فصلیں برباد، 22 افراد ہلاک

پنجاب کے کھیتوں میں دھان اور کپاس کی فصلیں کٹنے کے لئے تیار تھیں لیکن بے موسم برسات سے یہ فصلیں برباد ہو گئیں۔

قومی آوازبیورو

بارش سے شمالی ہندوستان بری طرح متاثر ہے اور متعدد اضلاع میں ہائی الرٹ جاری کر دیا گیا ہے۔ جبکہ کئی ریاستوں میں ریڈ الرٹ بھی جاری کیا گیا ہے۔ لگاتار بارش سے شمالی ہندوستان کے بالائی علاقوں میں اچانک سیلاب اور لینڈ سلائڈنگ ہورہی ہے، جس کے سبب جموں و کشمیر، ہماچل پردیش اور پنجاب میں اب تک 22 افراد کی جان جا چکی ہے۔

شمالی ہندوستان کے کئی علاقوں میں موسلادھار بارش کے امکانات ہیں۔ قومی راجدھانی دہلی اور ملحقہ علاقوں میں ہو رہی بارش کی وجہ سے جمنا ندی کے آبی سطح میں اضافہ ہوا ہے۔ گزشتہ رات ہتھنی کنڈ بیراج سے 2 لاکھ 18 ہزار کیوسیک پانی چھوڑا گیا ہے۔

پنجاب کے وزیر اعلی کیپٹن امریندر سنگھ نے تمام اسکولوں اور کالجوں کو بند رکھنے کا حکم دیا ہے۔

ماہرین زراعت کا خیال ہے کہ پنجاب اور ہریانہ میں بھاری برش سے خریف فصل کو نقصال ہو سکتا ہے۔ اطلاع کے مطابق کھیتوں میں دھان اور کپاس کی فصلیں کٹنے کے لئے تیار تھیں لیکن بے موسم برسات سے یہ فصلیں برباد ہو گئیں۔

چنڈی گڑھ میں لگاتار ہو رہی بارش کی وجہ سے سکھنا جھیل کی آبی سطح خطرے کے نشان سے اوپر پہنچ گئی ہے، جس کے بعد انتظامیہ کی جانب سے جھیل کے ہنگامی فلڈ گیٹس (سیلاب دروازے) کھولنے کی ہدایت جاری کر دی گئی۔ اس سے قبل 2008 میں فَلڈ گیٹس گھولے گئے تھے۔ چنڈی گڑھ میں کئی مقامات پر پانی جمع ہو گیا ہے۔

ادھر ہماچل پردیش کے لاہَول اسپیتی میں ٹریکنگ پر گئے آئی آئی ٹی روڑکی کے 35 طلبا سمیت 45 افراد لاپتہ ہوگئے تھے وہ خبروں کے مطابق مل گئے ہیں۔ لاہول اسپیتی میں 8 لوگوں کی ایک ٹیم بھی لاتپہ ہے جس میں دو بیرونی افراد بھی شامل ہیں۔ ریاست کے اونا، ہمیر پور اور کلو میں زبردست بارش کا انتباہ جاری کیا گیا ہے۔

ہماچل پردیش کے کئی علاقوں میں بارش کی وجہ سے سیلاب کی صورت حال پیدا ہو گئی ہے۔ کلو ضلع میں ’ہائی الرٹ‘ جاری کر دیا گیا ہے۔ کانگڑا، چمبا، کلو اور منڈی سمیت دیگر علاقوں کے ذیلی علاقوں سے لوگوں کو محفوظ مقامات پر پہنچایا جا رہا ہے۔

محکمہ موسمیات نے درمیانہ بالائی علاقوں اور میدانی علاقوں میں بھاری بارش کی پیشین گوئی کی ہے جبکہ بالائی علاقوں میں برف باری کی پیشین گوئی کی گئی ہے۔

ہماچل پردیش میں اگلے 24 گھنٹوں میں بھاری بارش کا الرٹ جاری کیا گیا ہے، جس کے پیش نظر تمام سرکاری اور نجی تعلیمی اداروں کے ساتھ آنگن باڑی مراکز کو بھی بند رکھنے کا حکم دیا گیا ہے۔

اتراکھنڈ میں بھی زیادہ تر مقامات پر بارشوں کا سلسلہ جاری ہے۔ لگاتار بارش کے سبب پہاڑوں سے ملبہ اور پتھر گرنے کی وجہ سے بدری ناتھ، کیدارناتھ اور یمنوتری جانے والے راستوں کے علاوہ دیگر راستے بھی بند ہو گئے ہیں۔ لینڈ سلائیڈنگ سے ’چار دھام یاترا‘ بھی متاثر ہوئی ہے۔ دہرادون، ہری دوار، پوڑی، اترکاشی، رودرپریاگ، چمولی، ٹہری، پتھوراگڑھ اور باگیشور سمیت صوبہ کے زیادہ تر مقامات پر بھاری بارش درج کی گئی ہے۔

رنجیت ساگر ڈیم کے فَلڈ گیٹس کھلونے سے قبل کٹھوعہ کے ڈی سی روہت کھجوریا نے کہا، ’’ہم نے لوگوں کو انتباہ دے دیا ہے کہ دروازے کھولے جائیں گے لہذا وہ دور رہیں۔‘‘

جموں و کشمیر کے ڈوڈہ اور کٹھوعہ ضلع میں بھی دو دنوں سے لگاتار بارش کا سلسلہ جاری ہے۔ سیلاب میں پھنسے لوگوں کو محفوظ مقامات پر پہنچایا گیا ہے۔ رنجیت ساگر ڈیم کا پانی چھوڑنے کے لئے ڈیم کے دروازوں کو کھول دیا گیا ہے۔

Published: 25 Sep 2018, 11:02 AM