نارتھ ایسٹ ایکسپریس میں لگی بھیانک آگ، ڈرائیور کی سمجھداری سے بچی مُسافروں کی جان

انجن میں آگ لگنے کی خبر ملتے ہی فائر بریگیڈ کی گاڑیاں موقع پر پہنچ گئیں اور سخت مشقت کے بعد آگ پر قابو پایا جا سکا۔ اچھی بات یہ رہی کہ آگ ڈبوں تک پہنچتی اس سے قبل ہی انجن سے ڈبوں کو الگ کر دیا گیا۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا
user

قومی آوازبیورو

9 مئی کو نارتھ-ایسٹ ایکسپریس ٹرین کے انجن میں بھیانک آگ لگنے کا واقعہ پیش آیا لیکن ڈرائیور کی سمجھداری کی وجہ سے مسافروں کی جان بچ گئی۔ واقعہ کچھ یوں ہے کہ مرزا پور کے کیلہٹ اسٹیشن کے پاس جمعرات کے روز نارتھ ایسٹ ایکسپریس کے انجن میں اچانک آگ لگ گئی۔ جب انجن میں سے دھواں نکلنے لگا تو ڈرائیور نے ہوشمندی کا مظاہرہ کرتے ہوئے فوراً ٹرین کو روکا اور فائر بریگیڈ کو اس کی خبر دی۔

گاڑی کے انجن میں آگ لگنے کی خبر ملتے ہی فائر بریگیڈ کی گاڑیاں موقع پر پہنچ گئیں اور سخت مشقت کے بعد اس آگ پر قابو پایا جا سکا۔ اچھی بات یہ رہی کہ انجن میں لگی آگ ڈبوں تک پہنچتی اس سے قبل ہی انجن سے ڈبوں کو الگ کر دیا گیا۔ اس قدم کی وجہ سے کسی بھی مسافر کو کوئی نقصان نہیں پہنچا اور ایک بڑا حادثہ ہونے سے بچ گیا۔

ذرائع کے مطابق آگ انجن میں موجود جنریٹر میں لگی تھی اور جب ڈرائیور نے اس سے دھواں اٹھتا ہوا دیکھا تو ٹرین روک کر فائر بریگیڈ اور ریلوے کے افسران سے بات کی۔ خبر ملنے کے بعد ریلوے افسران بھی موقع پر پہنچ گئے اور ہر طرح کے احتیاطی اقدام کیے گئے۔ سب سے پہلا کام یہ کیا گیا کہ انجن سے بوگی کو الگ کیا گیا تاکہ آگ پھیل نہ سکے۔

آگ لگنے کے اسباب کا ابھی تک پتہ نہیں چل سکا ہے اور اس سلسلے میں جانچ ہو رہی ہے۔ محکمہ ریل یہ جاننے کی کوشش میں لگی ہوئی ہے کہ آخر انجن کے موٹر میں کس طرح آگ لگ گئی۔ بتایا جا رہا ہے کہ نارتھ ایسٹ ایکسپریس میں دو انجن ہوتے ہیں۔ بیچ میں انجن ہونے کے سبب آگ دونوں جانب پھیل سکتی تھی، لیکن ڈرائیور کی سمجھداری کے سبب ایک بڑا حادثہ ہونے سے بچ گیا۔

Published: 9 May 2019, 3:10 PM
next