گجرات: ویکسین کی دوسری ڈوز لینے کے باوجود ہیلتھ ورکر کورونا سے متاثر!

ڈاکٹر سولنکی نے بتایا کہ ویکسین کی دونوں خوراک لینے کے باوجود محفوظ رہنے کے لئے لوگوں کو ماسک پہننا چاہیے، سماجی فاصلہ برقرار رکھنا چاہیے اور کورونا سے متعلق تمام قواعد پر سختی سے عمل کرنا چاہیے

کورونا ویکسین / یو این آئی
کورونا ویکسین / یو این آئی
user

قومی آوازبیورو

گاندھی نگر: گجرات کی راجدھانی گاندھی نگر سے حیران کن خبریں منظر عام پر آئی ہے۔ یہاں کورونا وائرس ویکسین کی دوسری ڈوز لینے کے چند دن بعد ایک صحت کارکن کورونا سے متاثر پایا گیا۔ گاندھی نگر کے چیف ہیلتھ آفیسر ڈاکٹر ایم ایچ سولنکی نے اس سلسلے میں یہ اطلاع دی ہے۔

چیف ہییلتھ آفیسر ایم ایچ سولنکی نے کہا کہ گاندھی نگر کے ضلع دہگام تعلقہ کے رہائشی صحت کارکن نے پہلی خوراک 16 جنوری کو اور دوسری خوراک 15 فروری کو لی تھی۔ وہ بخار سے متاثر ہوا اور اس کی علامات کی جانچ کے بعد اس کے کورونا سے متاثر ہونے کی تصدیق کی گئی۔


ڈاکٹر سولنکی نے بتایا کہ علامات کم شدت کی ہونے کی وجہ سے ہیلتھ ورکر کو تنہائی میں رکھا گیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ پیر سے ہیلتھ ورکر کام کرنے کی حالت میں ہوگا۔ عہدیدار نے بتایا کہ ویکسین کی دونوں خوراکیں لینے کے بعد عام طور پر جسم میں اینٹی باڈیز تیار کرنے میں 45 دن لگتے ہیں۔ ڈاکٹر سولنکی نے کہا کہ ویکسین کی دونوں خوراکیں لینے کے باوجود محفوظ رہنے کے لئے لوگوں کو ماسک پہننا چاہیے اور دو گز کی دوری سمیت کورونا سے متعلق تمام اصولوں پر سختی سے عمل کرنا چاہیے۔

دراصل خوراک لینے کے بعد لوگوں کے ذہن میں آتا ہے کہ اب تو ویکسین لے لی ہے اب انہیں کوئی خطرہ نہیں، لیکن ماہرین کا کہنا ہے کہ یہی سب سے زیادہ احتیاط کا وقت ہوتا ہے کیونکہ جسم میں اینٹی باڈیز اس وقت تک پوری طرح تیار نہیں ہو پاتی۔ یہی وجہ ہے کہ کورونا کی ویکسین آنے کے باوجود ہندوستان ہی نہیں پوری دنیا میں احتیاطی تدابیر پر بدستور عمل جاری ہے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔