منی پور معاملہ پر پارلیمنٹ میں ہنگامہ جاری، دونوں ایوانوں کی کارروائی دن بھر کے لیے ملتوی

لوک سبھا اسپیکر نے ارکان سے ہنگامہ نہ کرنے کی تاکید کی اور کہا کہ پچھلے دو تین دنوں سے ارکان مسلسل منی پور کے مسئلہ پر بحث کرنے کی بات کر رہے ہیں، اس لیے وزیر داخلہ ایوان میں اس مسئلہ پر بات کریں گے۔

لوک سبھا
لوک سبھا
user

قومی آوازبیورو

نئی دہلی: منی پور معاملے پر اپوزیشن کے زبردست ہنگامے کی وجہ سے پیر کے روز نہ ہی لوک سبھا میں کوئی کام ہو سکا، اور نہ ہی راجیہ سبھا کی کارروائی بہتر انداز میں چل سکی۔ دونوں ہی ایوانوں کی کارروائی آج دن بھر کے لیے ملتوی کر دی گئی اور منی پور کو لے کر جاری ہنگامہ فی الحال ختم ہوتا ہوا دکھائی نہیں دے رہا ہے۔

لوک سبھا کے اجلاس کے تیسرے دن پیر کو کوئی کام نہیں ہوا اور اسپیکر اوم برلا کو تین التوا کے بعد ایوان کی کارروائی دن بھر کے لیے ملتوی کرنی پڑی۔ جیسے ہی اسپیکر اوم برلا نے دوپہر ڈھائی بجے چوتھی بار لوک سبھا کی کارروائی شروع کی تو اپوزیشن ارکان پہلے کی طرح کرسی کے سامنے آگئے اور ہنگامہ آرائی اور نعرے بازی شروع کر دی۔ ہنگامہ کرنے والے ارکان کے ہاتھوں میں پلے کارڈ تھے۔ اسپیکر نے ارکان سے ہنگامہ نہ کرنے کی تاکید کی اور کہا کہ پچھلے دو تین دنوں سے ارکان مسلسل منی پور کے مسئلہ پر بحث کرنے کی بات کر رہے ہیں، اس لئے وزیر داخلہ ایوان میں اس مسئلہ پر بات کریں گے۔

وزیر داخلہ امت شاہ نے کہا ’’میں تمام اپوزیشن کے ارکان سے درخواست کرتا ہوں۔ حکمران جماعت اور اپوزیشن کے ارکان اس انتہائی حساس معاملے پر بحث کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ میں ایوان میں بحث کے لیے تیار ہوں۔ پتہ نہیں اپوزیشن کیوں بحث نہیں چاہتی جبکہ ملک اس پر بحث چاہتا ہے۔ میری اپوزیشن ارکان سے درخواست ہے کہ اس معاملے پر بات کریں تاکہ ملک کو واضح پیغام جائے۔


وزیر داخلہ کے بیان کے درمیان بھی جب اپوزیشن ارکان نعرے لگاتے اور باتیں کرتے رہے اسپیکر برلا نے کہا کہ وزیر داخلہ کے بیان کو ہونے دیا جائے۔ حکومت بحث کے لیے تیار ہے۔ ایسے معاملات پر ہمیشہ متعلقہ محکمے کا وزیر پہلا بیان دیتا ہے لیکن اپوزیشن یہاں ایک نئی روایت شروع کرنا چاہتی ہے جو کہ درست نہیں۔ حکومت بحث کے لیے تیار ہے لیکن اپوزیشن بحث نہیں چاہتی۔ ہنگامہ آرائی کو دیکھتے ہوئے اسپیکر نے ایوان کی کارروائی دن بھر کے لیے ملتوی کر دی۔

اس سے پہلے جیسے ہی پریزائیڈنگ آفیسر راجندر اگروال نے کھانے کے وقفے کے بعد 2 بجے ایوان کی کارروائی شروع کی تو اپوزیشن ارکان نے ہنگامہ شروع کردیا جس کی وجہ سے انہیں ایوان کی کارروائی آدھے گھنٹے کے لیے ملتوی کرنی پڑی تھی۔

قبل ازیں صبح 11 بجے اسپیکر نے جیسے ہی وقفہ سوالات شروع کیا تو اپوزیشن ارکان نے ہنگامہ آرائی شروع کر دی اور ارکان کرسی کے سامنے آ گئے۔ ہنگامے کے درمیان مسٹر برلا نے وقفہ سوالات کرنے کی کوشش کی۔ وزراء کی جانب سے کچھ سوالات کے جوابات دیئے گئے لیکن ہنگامہ آرائی کے باعث انہیں ایوان کی کارروائی 12 بجے تک ملتوی کرنی پڑی۔


دوسری طرف عام آدمی پارٹی (عآپ) کے معطل رکن سنجے سنگھ کے احتجاج اور اپوزیشن جماعتوں کے ہنگامے کے درمیان راجیہ سبھا کی کارروائی بھی کل تک کے لیے ملتوی کر دی گئی۔ دوپہر کے کھانے کے وقفے کے بعد کارروائی ملتوی ہونے کے بعد ایک بار پھر جب کارروائی شروع ہوئی تو ڈپٹی چیئرمین ہری ونش نے ایوان سے معطل کیے گئے سنجے سنگھ سے یہ کہتے ہوئے باہر جانے کی اپیل کی کہ قواعد کے مطابق انہیں ایوان سے باہر جانا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ “میں درخواست کرتا ہوں کہ سنجے سنگھ کو ایوان سے باہر جانا چاہئے تاکہ ایوان کی کارروائی چل سکے۔‘‘ اس کے باوجود سنجے سنگھ ایوان میں موجود رہے اور ہری ونش نے ایوان کی کارروائی کل تک کے لئے ملتوی کردی۔

اس سے قبل کھانے کے وقفے کے بعد کارروائی شروع ہونے کے بعد بھی اسی وجہ سے کارروائی ملتوی کرنی پڑی تھی۔ مانسون اجلاس میں مسلسل تیسرے دن بھی کوئی کام نہیں ہو سکا۔ اس سے قبل منی پور، خواتین کی حفاظت وغیرہ جیسے مسائل پر ایوان کی کارروائی 11 بجے، 12 بجے اور 2 بجے معطل کر دی گئی تھی۔ پہلے التوا کے بعد اسپیکر جگدیپ دھنکھر نے سنجے سنگھ کو غیر منظم طرز عمل کی بنیاد پر اجلاس کی بقیہ مدت کے لیے کارروائی سے معطل کر دیا تھا۔ کھانے کے وقفے کے بعد جب ایوان کی کارروائی شروع ہوئی تو سنجے سنگھ ایوان میں موجود تھے۔

(یو این آئی اِنپٹ کے ساتھ)

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔


/* */