جے این یو میں سڑک کا نام ’ساورکر مارگ‘ رکھے جانے پر ہنگامہ

جے این یو طلبا یونین کی صدر آئشی گھوش نے جے این یو انتظامیہ کے ذریعہ یونیورسٹی میں ایک سڑک کا نام ساورکر کے نام پر رکھے جانے کے قدم کو شرمسار کرنے والا قدم ٹھہرایا ہے اور اس کی پرزور مذمت بھی کی ہے۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا
user

قومی آوازبیورو

اسٹوڈنٹ پالیٹکس میں لیفٹ یعنی بایاں محاذ کا قلع تصور کیے جانے والے جواہر لال نہرو یونیورسٹی (جے این یو) میں رائٹ وِنگ نظریات کے علمبردار ونایک دامودر ساورکر (وی ڈی ساورکر) کے نام پر ایک سڑک کا نام رکھ دیا گیا ہے جس کے بعد طلبا کے درمیان کافی حیرانی دیکھنے کو مل رہی ہے۔ جے این یو طلبا یونین کی صدر آئشی گھوش نے جے این یو انتظامیہ کے ذریعہ اٹھائے گئے اس قدم کو شرمسار کرنے والا قدم ٹھہرایا ہے اور اس کی پرزور مذمت بھی کی ہے۔

آئشی گھوس نے وی. ڈی. ساورکر مارگ لکھے بورڈ کی تصویر اپنے آفیشیل سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹوئٹر سے شیئر کرتے ہوئے لکھا ہے کہ ’’یہ جے این یو کی وراثت کے لیے شرم کی بات ہے کہ اس آدمی کا نام اس یونیورسٹی میں رکھا گیا ہے۔ ساورکر اور ان کے لوگوں کے لیے یونیورسٹی کے پاس نہ کبھی جگہ تھی اور نہ ہی کبھی ہوگی۔‘‘ آئشی گھوس نے جو تصویر ٹوئٹر پر شیئر کی ہے اس میں صاف نظر آ رہا ہے کہ جہاں پر مہاندی ہاسٹل اور سبنسیر ہاسٹل کی طرف اشارہ کرتا ہوا بورڈ لگا ہوا ہے، وہیں قریب میں وی. ڈی. ساورکر مارگ کا بورڈ بھی لگا دیا گیا ہے۔

ویسے یونیورسٹیوں میں ہندوتوا ذہنیت کی عکاسی کرنے والی شخصیتوں کے مجسمے لگانے اور ان کے نام کو آگے بڑھانے کی کوششیں گزشتہ کچھ سالوں میں لگاتار دیکھنے کو مل رہی ہیں۔ گزشتہ سال کی ہی بات ہے جب دہلی یونیورسٹی میں ونایک دامودر ساورکر کا مجسمہ لگایا گیا تھا اور اس بات پر کافی ہنگامہ بھی ہوا تھا۔ اس مجسمے پر این ایس یو آئی کے لوگوں نے سیاہی بھی لگا دی تھی جس کے بعد کیمپس کا ماحول کافی کشیدہ ہو گیا تھا۔ واقعہ نارتھ کیمپس واقع آرٹس فیکلٹی کا تھا جہاں ساورکر کے ساتھ سبھاش چندر بوس اور بھگت سنگھ کی مورتی لگائی گئی تھی۔ طلبا کی ناراضگی اس بات کو لے کر بھی تھی کہ ساورکر کو سبھاش چندر بوس اور بھگت سنگھ کے برابر کس طرح سمجھا گیا۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔


next