بالغ لڑکی کی رضامندی سے جنسی تعلقات قائم کرنا غیر اخلاقی ہے مگر جرم نہیں: ہائی کورٹ

عدالت نے کہا کہ وہ شخص جو خود کو لڑکی کا بوائے فرینڈ قرار دیتا ہے، اس کا فرض تھا کہ وہ شریک ملزمان کے ذریعہ کی جانے والی اجتماعی عصمت دری سے لڑکی کی حفاظت کرے۔

الہ آباد ہائی کورٹ، تصویر آئی اے این ایس
الہ آباد ہائی کورٹ، تصویر آئی اے این ایس
user

قومی آوازبیورو

الہ آباد: الہ آباد ہائی کورٹ نے کہا ہے کہ بالغ لڑکی کی رضامندی سے جنسی تعلقات قائم کرنا جرم نہیں ہے، تاہم یہ غیر اخلاقی، غیر اصولی اور ہندوستانی سماجی اقدار کے خلاف ہے۔ عدالت نے کہا کہ وہ شخص جو خود کو لڑکی کا بوائے فرینڈ قرار دیتا ہے، اس کا فرض تھا کہ وہ شریک ملزمان کے ذریعہ کی جانے والی اجتماعی عصمت دری سے لڑکی کی حفاظت کرے۔

ایک مقدمہ کی سماعت کرتے ہوئے الہ آباد ہائی کورٹ کے جسٹس راہل چترویدی نے کہا کہ عرضی گزار خاموشی سے اپنی گرل فرینڈ کی اجتماعی عصمت دری کو اپنے سامنے دیکھتا رہا۔ اس نے احتجاج تک نہیں کیا۔ عرضی گزار کی اس حرکت کو دیکھتے ہوئے جسٹس راہل چترویدی نے عاشق دوست راجو کو ضمانت دینے سے انکار کر دیا۔ انہوں نے کہا، یہ یقین سے نہیں کہا جا سکتا کہ اس کا شریک ملزمان سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

واضح رہے کہ 20 فروری 2021 کو کوشامبی کے عقیل سرائے پولیس اسٹیشن میں پوکسو ایکٹ اور تعزیرات ہند کی دفعات کے تحت چار لوگوں کے خلاف ایف آئی آر درج کی گئی تھی۔ متاثرہ کے مطابق 19 فروری کو وہ سلائی سنٹر گئی تھی۔ صبح آٹھ بجے اس نے اپنے بوائے فرینڈ راجو کو فون کیا کہ وہ ملنا چاہتی ہے۔ دونوں دریا کے کنارے ملے۔ کچھ دیر بعد تین اور لوگ وہاں آگئے۔ انہوں نے راجو کی پٹائی کی۔ موبائل فون چھین لیا اور متاثرہ لڑکی کی اجتماعی عصمت دری کی۔ دونوں دریا کے کنارے ملاقات کرنے والے ہیں یہ وہ جانتے تھے۔

عدالت نے ضمانت دینے سے انکار کرتے ہوئے کہا کہ یقین سے نہیں کہا جا سکتا کہ عرضی گزار کا ملزمان سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ جرم میں اس کے بھی ملوث ہونے کا امکان ہے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔