ہاتھرس عصمت دری: گردن پر چوٹ کے نشان، کئی ہڈیاں فریکچر، پوسٹ مارٹم رپورٹ میں انکشاف

پوسٹ مارٹم رپورٹ دہلی کے صفدر جنگ اسپتال کی طرف سے جاری کی گئی ہے، جہاں منگل کے روز 19 سالہ متاثرہ خاتون کی دوران علاج موت ہو گئی تھی۔ ڈاکٹروں کی حتمی رپورٹ میں عصمت دری کا ذکر نہیں ہے

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا
user

قومی آوازبیورو

ہاتھرس: یو پی کے ہاتھرس میں گینگ ریپ کا شکار ہونے والی 19 سالہ متاثرہ کی پوسٹ مارٹم رپورٹ منظر عام پر آ گئی ہے۔ رپورٹ کے مطابق متاثرہ کی موت گلا دبانے اور اس کے ساتھ بربریت کرنے کی وجہ سے ہوئی۔ رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ متاثرہ کی ریڑھ کی ہڈی پر بھی چوٹ کے نشان ہیں۔

پوسٹ مارٹم رپورٹ دہلی کے صفدر جنگ اسپتال کی طرف سے جاری کی گئی ہے، جہاں منگل کے روز 19 سالہ خاتون کی دوران علاج موت ہو گئی تھی۔ ڈاکٹروں کی حتمی رپورٹ میں عصمت دری کا ذکر نہیں ہے، تاہم اس کے نجی اعضا سے چھیڑ خانی کے اشارے ضرور دیئے گئے ہیں۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ متاثرہ کی موت ریڑھ کی ہڈی میں شدید چوٹ لگنے کی وجہ سے ہوئی۔ اس کے گلے پر دوپٹہ سے گلا گھنوٹنے کے بھی نشانات موجود ہیں، تاہم موت اس کی وجہ سے نہیں ہوئی۔ خیال رہے کہ 14 ستمبر کو گاؤں کے ہی اعلیٰ ذات سے وابستہ چار نوجوانوں نے متاثرہ کے ساتھ گینگ ریپ کیا تھا۔ متاثرہ ایک کھیت سے عریاں حالت میں برآمد ہوئی تھی۔ اس کے جسم سے خون بہہ رہا تھا اور کئی جگہ چوٹ کے نشان تھے۔ ہڈیاں ٹوٹی ہوئی تھیں، کنبہ کا الزام ہے کہ اس کی زبان بھی کاٹ دی گئی تھی۔

اسپتال نے پوسٹ مارٹم رپورٹ میں مختصراً لکھا، ’’مریض کا ابتدائی طور پر ٹھیک طرح سے علاج نہیں کیا گیا اور اس کی حالت مستحکم بتائی گئی۔ بعد میں بہتر علاج و معالجہ کے باوجود مریض کی حالات لگاتار بگڑتی چلی گئی اور اس کی موت واقع ہو گئی۔‘‘ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اسے سی پی آر بھی دیا گیا لیکن ہر ممکن کوشش کے باوجود اسے بچایا نہیں جا سکا۔ منگل کی صبح 8.55 پر اس کی موت واقع ہو گئی۔ ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ متاثرہ کے وسرا کی فارینسک رپورٹ میں عصمت دری کی تصدیق ہوگی۔

next