ہاتھرس معاملہ: کیرالہ کے صحافی کی درخواست پر یو پی حکومت سے جواب طلب

چیف جسٹس شرد اروند بوبڈے نے صحافی کی ضمانت کے لیے کیرالہ ورکنگ جرنلسٹ ایسوسی ایشن کی جانب سے دائر درخواست پر سماعت کرتے ہوئے اترپردیش حکومت سے تفصیلی جواب داخل کرنے کو کہا۔

عدالت، علامتی تصویر
عدالت، علامتی تصویر
user

یو این آئی

نئی دہلی: سپریم کورٹ نے اترپردیش کے ہاتھرس آبروریزی معاملہ کے دوران متاثرہ کے گاوں جاتے وقت گرفتار کیے گئے کیرالا کے صحافی صدیقی کپّن کی درخواست ضمانت پر یوگی حکومت سے پیر کو جواب طلب کیا۔ حالانکہ عدالت نے کہا کہ وہ آرٹیکل 32 کے تحت اس طرح کی درخواستوں کی حوصلہ شکنی کرنا چاہتی ہے۔چیف جسٹس شرد اروند بوبڈے کی صدارت والی بنچ نے صحافی کی ضمانت کے لیے کیرالہ ورکنگ جرنلسٹ ایسوسی ایشن کی جانب سے دائر درخواست پر سماعت کرتے ہوئے اترپردیش حکومت سے تفصیلی جواب داخل کرنے کو کہا۔

جج بوبڈے نے سماعت کے دوران درخواست گزار کی جانب سے پیش سینئر وکیل کپل سبل سے کہا کہ درخواست گزار ہائی کورٹ کیوں نہیں جارہا ہے۔ گرچہ چیف جسٹس نے سبل کے دلائل سننے کے بعد ریاستی حکومت کو نوٹس جاری کیا، لیکن انہوں نے معاملے کو ہائی کورٹ بھیجنے کے اشارے دیے۔ جج بوبڈے نے کہا، آرٹیکل 32 کے تحت دائر پی آئی ایل کی ہم حوصلہ شکنی کرنا چاہتے ہیں۔

سبل نے کہا کہ درخواست گزارکے اہل خانہ کو نہ تو اس سے جیل میں ملنے دیا جارہا ہے، نہ کسی وکیل کو ہی وہاں تک پہنچنے دیا جارہا ہے۔ اس کے بعد جج بوبڑے نے نوٹس جاری کرتے ہوئے معاملہ کی سماعت کے لیے جمعہ کی تاریخ مقرر کی۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔