دھرم سنسد میں نفرت انگیز تقریر: سپریم کورٹ نے دہلی پولیس کی کارروائی پر اٹھائے سوال، دو ہفتوں میں رپورٹ طلب

عرضی گزار نے کہا کہ اب تک دہلی پولیس نے نفرت انگیز تقریر کرنے والے لوگوں کے خلاف نہ تو کوئی ٹھوس کارروائی کی ہے اور نہ ہی عدالت میں کوئی جواب داخل کیا ہے

دھرم سنسد، فائل تصویر ویڈیو گریب
دھرم سنسد، فائل تصویر ویڈیو گریب
user

قومی آوازبیورو

نئی دہلی: سپریم کورٹ نے قومی راجدھانی میں ’دھرم سنسد‘ میں نفرت انگیز تقریر کو لے کر دہلی پولیس پر سوال اٹھائے ہیں۔ عدالت نے پوچھا کہ دھرم سنسد 19 دسمبر 2021 کو ہوئی تھی، ایف آئی آر 5 ماہ بعد کیوں درج کی گئی؟ اس کے علاوہ عدالت نے پوچھا کہ ایف آئی آر درج ہونے کے 8 ماہ بعد بھی تفتیش کہاں تک پہنچی؟ اس معاملے میں کتنے لوگوں کو گرفتار کیا گیا؟ اور کتنے لوگوں سے پوچھ گچھ کی گئی ہے؟ سپریم کورٹ نے تفتیشی افسر سے دو ہفتوں میں اسٹیٹس رپورٹ طلب کر لی کہ اس معاملے میں اب تک کیا اقدامات کیے گئے؟

چیف جسٹس (سی جے آئی) ڈی وائی چندرچوڑ اور جسٹس پی ایس نرسمہا کی بنچ نے تشار گاندھی کی توہین عدالت کی عرضی پر سماعت کی۔ عرضی گزار تشار گاندھی کی جانب سے کہا گیا کہ دہلی پولیس نے حلف نامہ میں کہا ہے کہ معاملے کی جانچ جاری ہے۔ پانچ ماہ بعد ایف آئی آر درج ہوئی، چارج شیٹ بھی داخل نہیں ہوئی اور نہ ہی کسی کو گرفتار کیا گیا۔


پچھلی سماعت میں سپریم کورٹ نے دہلی پولیس سے دو ہفتوں میں اپنا جواب داخل کرنے کو کہا تھا۔ ساتھ ہی اتراکھنڈ حکومت کو اس کیس سے بری کر دیا گیا۔ سماعت میں اتراکھنڈ حکومت نے عدالت کو بتایا کہ اس نے اپنا جواب داخل کر دیا ہے اور معاملے کی سماعت کرنے والی دوسری بنچ کے پاس وقت پر جواب اور کارروائی رپورٹ داخل کر دی تھی۔ اس کے باوجود عرضی گزار نے حکومت، ضلعی انتظامیہ اور پولیس کے خلاف توہین عدالت کی عرضی دائر کر رکھی ہے۔

سپریم کورٹ نے کہا کہ چونکہ جسٹس اجے رستوگی کی بنچ پہلے بھی اس معاملے کی سماعت کر چکی ہے، اس لیے اسے وہاں بھیجا جا سکتا ہے۔ 10 اکتوبر 2022 کو سپریم کورٹ نے اتراکھنڈ حکومت اور دہلی پولیس سے حقائق پر مبنی موقف اور کارروائی کے بارے میں حلف نامہ طلب کیا۔ تشار گاندھی کی توہین عدالت کی عرضی پر بھی معلومات مانگی گئی ہیں۔


سماعت کے دوران جسٹس ڈی وائی چندرچوڑ اور جسٹس ہیما کوہلی نے کہا تھا کہ اس مرحلے پر وہ تشار گاندھی کی طرف سے دائر توہین عدالت کی درخواست میں نوٹس جاری نہیں کریں گے۔ دراصل، تشار گاندھی نے توہین عدالت کی درخواست میں ڈی جی پی، اتراکھنڈ پولیس اور دہلی پولیس پر مذہب کی پارلیمنٹ میں سرکردہ افراد کی طرف سے دی گئی نفرت انگیز تقریر کے سلسلے میں کارروائی نہ کرنے کا الزام لگایا ہے۔

تشار گاندھی کے وکیل شادان فراست علی نے عرض کیا تھا کہ متعلقہ ریاستوں کی پولیس نے تحسین ایس پونا والا بمقابلہ یونین آف انڈیا میں سپریم کورٹ کے فیصلے کے مطابق کوئی کارروائی نہیں کی ہے، جس نے نفرت انگیز جرائم اور ہجومی تشدد کے سلسلے میں تعزیری اور تدارکاتی اقدامات پر رہنما خطوط جاری کیے تھے۔

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔