مودی حکومت پر دبئی کے سلطان کا طنز!

ہندوستان کی طرف سے کیرالہ سیلاب کیلئے یو اے ای کی مدد ٹھکرانے کے بعد سلطان نے دو ٹوئٹ کئے، ان میں مودی حکومت کا ذکر نہیں ہے لیکن لوگوں کا کہنا ہے کہ اشاروں میں انہیں پر طنز کیا گیا ہے۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا
user

قومی آوازبیورو

سیلاب سے متاثرہ کیرالہ کی مدد یو اے ای کی پیشکش کوٹھکرانے پر دبئی کے سلطان محمد بن راشد آل مكتوم نے مرکز کی مودی حکومت پر طنز کیا ہے۔ حالانکہ انہوں نے مودی حکومت کا نام نہیں لیا، لیکن انہوں نے کہا ہے کہ کچھ حکمرانوں کو اپنے در پر ضرورت مندوں کی بھیڑ دیکھ کر خوشی ملتی ہے۔

کئی دنوں سے یہ بحث زوروں پر ہے کہ ہندوستان نے سیلاب سے بری طرح متاثر کیرالہ کی مدد کے لئے یو اے ای کی 700 کروڑ روپے کی مدد ٹھکرا دی ہے، اسے لے کر ایک تنازعہ بھی کھڑا ہو گیا ہے اور سوشل میڈیا پر لوگ کسی بھی آفت کی صورت میں غیر ملکی مدد لینے کے قوانین بھی پیش کر رہے ہیں۔

اسی تنازعہ اور بحث کے درمیان اتوار کی رات دبئی کے سلطان محمد بن راشد آل مكتوم نے دو ٹویٹ کئے، عربی زبان میں کئے گئے دونوں ٹوئٹس میں انہوں نے لکھاکہ ماڈل حکمران کس طرح ہونے چاہئے، پہلے ٹوئٹ میں سلطان نے لکھا کہ، ’’زندگی نے مجھے سکھایا کہ حکمران دو قسم کے ہوتے ہیں، پہلی قسم ان حکمرانوں کی ہے ں جو نیکی کی کلید ہوتے ہیں، لوگوں کی خدمت کرنا پسند کرتے ہیں، انہیں لوگوں کی زندگی کو آسان بنانے میں خوشی ملتی ہے، ایسے حکمرانوں کا تجزیہ ان کی طرف سے کئے جانے والے کاموں سے ہوتا ہے، ان کی عملی کامیابی لوگوں کی زندگیوں کو تبدیل کرنا اور ان کے لئے بند دروازوں کو کھولنا ہے، وہ ہمیشہ مشکلات اور مسائل کو حل کرتے ہیں اور ہمیشہ لوگوں کی بھلائی کے بارے میں سوچتے ہیں‘‘۔

دوسرے ٹویٹ میں انہوں نے کہا، "دوسری طرح کے حکمران وہ ہوتے ہیں جو اچھائیوں اور اچھی چیزوں پر رکاوٹ لگاتے ہیں، لوگوں کی زندگی کو مشکل بنا دیتے ہیں، ان کے زندگی کی سہولتیں کم کرتے ہے. بات بات میں قانون اور قواعد و ضوابط کا حوالہ دیتے ہیں. ایسے حکمرانوں کو اپنے شرح اور دفتر پر ضرورت مندوں کو کھڑا دیکھ کر خوشی ملتی ہے. "

دوسرے ٹوئٹ میں انہوں نے کہا، ’’دوسری طرح کے حکمران وہ ہوتے ہیں جو اچھائیوں اور اچھے کاموں میں رکاوٹ ڈالتے ہیں، لوگوں کی زندگی کو مشکل بنا دیتے ہیں، زندگی کی سہولتیں کم کردیتے ہیں، بات بات میں قانون اور ضوابط کا حوالہ دیتے ہیں، ایسے حکمرانوں کو اپنے در پر اور دفتر پر ضرورت مندوں کو کھڑا دیکھ کر خوشی ملتی ہے‘‘۔

انہوں نے یہ کہہ کر اپنے ٹوئٹس کو ختم کیا کہ وہی حکومتیں کامیاب ہوتی ہیں جنہیں پہلی قسم کے حکمران چلاتے ہیں اور ان کی تعداد دوسرے قسم کے حکمرانوں سے زیادہ ہوتی ہے۔

سلطان محمد بن راشد آل مكتوم دبئی کے سلطان ہی نہیں ہیں، بلکہ وہاں کے نائب صدر اور وزیر اعظم بھی ہیں، سلطان کے ان ٹوئٹس پر بہت سارے لوگوں کا خیال ہے کہ انہوں نے مودی حکومت پرطنز کیا ہے۔

سلطان نے اس سے پہلے بھی کیرالہ سیلاب کو لے کر ٹوئٹ کئے تھے اور لوگوں سے اس مصیبت کے وقت کیرالہ کی مدد کرنے کی اپیل کی تھی، انہوں نے ملیالم اور انگریزی دونوں زبانوں میں ٹوئٹ کرکے کہا تھا کہ عید الاضحی کے موقع پر کیرالہ کے اپنے بھائیوں کی مدد کرنا نہ بھولیں، انہوں نے کہا تھا کہ یو اے ای اور بھارتی کمیونٹی کیرالہ میں لوگوں کی مدد کے لئے متحد ہوں گے اور اس کے لئے ایک کمیٹی بنائی گئی ہے تاکہ مدد فوراً شروع ہو سکے، انہوں نے یہ بھی کہا تھا کہ کیرل کے لوگوں نے یو اے ای کی کامیابی میں بڑا کردار ادا کیا ہے، ایسے میں ہماری ذمہ داری ہے کہ ہم وہاں کے لوگوں کی مدد کریں۔

اس دوران خبریں یہ ہیں کہ ہندوستان میں متحدہ عرب امارات کے سفیر ال بننا اس ہفتے سیلاب سے متاثرکیرل کا دورہ کر سکتے ہیں، وہ راحت اور باز آبادکاری کے کاموں میں مدد کرنے والی مختلف تنظیموں اور این جی او کے حکام سے ملاقات کریں گے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔


Published: 28 Aug 2018, 6:19 PM