کیا مولانا ارشد مدنی نے غلط بیانی سے کام لیا ہے؟

سینئر وکیل راجیو دھون نے ایک فیس بک پوسٹ میں لکھا ہے کہ ’’مجھے مطلع کیا گیا ہے کہ مولانا ارشد مدنی نے کہا ہے کہ مجھے اس معاملہ سے اس لئے ہٹا یا گیا ہے کیونکہ میں علیل ہوں۔ یہ پوری طرح سے بکواس ہے۔‘‘

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا
user

قومی آوازبیورو

بابری مسجد کےمقدمہ میں فریق کوئی بھی رہا ہو لیکن اس مقدمہ کا اگر کوئی اصل ہیرو رہا ہے تو وہ سینئر وکیل راجیو دھون رہے ہیں جنہوں نے اس معاملہ میں تمام طرح کے دباؤ برداشت کئے اور بغیر کوئی فیس چارج کئے مقدمہ کو پورے دل سے لڑا۔ لیکن اب جب جمعیۃ علما ء ہند (ا) نے اس معاملہ میں نظر ثانی کی جو عرضی داخل کرنے کا فیصلہ کیا ہے تو اس سے راجیو دھون کو پورے معاملہ سے یہ کہہ کر الگ کر دیا ہے کہ راجیو دھون علیل ہیں۔ راجیو دھون نے جمعیۃ کے اس بیان کی سخت الفاظ میں تردید کی ہے کہ وہ علیل ہیں۔

سینئر وکیل راجیو دھون نے فیس بک پوسٹ کر کے نہ صرف جمعیۃ علماء ہند بلکہ اس کے صدر مولانا ارشد مدنی کو ایک طرح سے جھوٹا قرار دیا ہے۔ انہوں نے اپنے پوسٹ میں کہا ہے کہ ’’میں مقدمہ کے نظر ثانی معاملہ میں شامل نہیں ہوں۔ مجھے مطلع کیا گیا ہے کہ مولانا ارشد مدنی نے کہا ہے کہ مجھے اس معاملہ سے اس لئے ہٹا یا گیا ہے کیونکہ میں علیل ہوں۔ یہ پوری طرح سے بکواس ہے۔‘‘

واضح رہے کہ اس سے پہلے کیے گئے ایک فیس بک پوسٹ میں راجیو دھون نے یہ بھی کہا کہ ’’بابری مسجد مقدمہ میں جمعیۃ کے نمائندہ وکیل اعجاز مقبول نے ایک خط بھیجا ہے اور میں اس معاملہ میں اپنی برخاستگی کو بغیر کسی قباحت کے قبول کرتا ہوں۔‘‘ اس سارے معاملہ سے دو باتیں صاف ظاہر ہوتی ہیں کہ نظر ثانی معاملہ میں یا تو جمعیۃ کا راجیو دھون پر اعتماد نہیں رہا یا پھر جو بھی جمعیۃ علما ء کہہ رہی ہے وہ سب غلط بیانی پر مبنی ہے۔ بات جو بھی ہو لیکن اگر ایک سینئر وکیل مولانا ارشد کے تعلق سے کہے کہ جو مولانا نے ان کی طبیعت کے تعلق سے بیان دیا ہے وہ سراسر بکواس ہے ، تو یہ مولانا ارشد اور جمعیۃ کی کارکردگی پر سوال کھڑا کرتا ہے۔

جس وقت پوری ملت اس بات کو لے کر منقسم ہے کہ نظر ثانی کی درخواست داخل کی جائے یا نہیں، اس وقت یہ بات انتہائی تکلیف دہ تو ہے کہ اس وکیل کا ایسا بیان آئے جس کے تعلق سے تمام فریقین کی رائے ہے کہ اس نے پورے مقدمہ کی پیروی دل سے اور انتہائی خلوص کے ساتھ کی۔ اب سوال یہ بھی ہے کہ کیا جمعیۃ کی اس عرضی داخل کرنے اور مقدمہ سے راجیو دھون کو ہٹانے کے پیچھے حکومت کا دباؤ ہے۔ ایک بڑا طبقہ جو نظر ثانی کی عرضی کے خلاف تھا اس کی یہ دلیل ہے کہ مسلمانوں کو دوبارہ کیوں ذلت کے گھڑے میں دھکیلا جا رہا ہے ۔

جمعیۃعلماء ہند نے بابری مسجد ملکیت مقدمہ میں گزشتہ 9نومبر کو آنے والے فیصلہ کے خلاف سپریم کورٹ میں ریویوپٹیشن(ڈائری نمبر43241-2019) داخل کردی ہے اور یہ ریویوپٹیشن آئین کی دفعہ 137کے تحت دی گئی مراعات کی روشنی میں داخل کی گئی ہے۔جمعیۃعلماء ہند کے مطابق بابری مسجد کا مقدمہ ہندوستان کی تاریخ کا طویل ترین مقدمہ ہے، جس نے انصاف کے لئے نہیں صرف فیصلہ کے لئے تقریباً 70 سال کا وقت لیا ہے۔ آخر معاملہ سپریم کورٹ تک پہنچااور طویل بحث کے بعد سپریم کورٹ آف انڈیا کی پانچ رکنی آئینی بنچ نے اپنا فیصلہ صادر کردیاتھا اور متنازع اراضی رام للا کو دینے اور مسلمانوں کو پانچ ایکڑ زمین متبادل کے طور پر دینے کاحکم دیا تھا۔

اس فیصلے کے خلاف اس معاملے میں فریق اول جمعیۃ علماء ہند نے وکلاء خصوصاً سپریم کورٹ کے سینئر وکیل ڈاکٹر راجیو دھون،ایڈوکیٹ اعجاز مقبول و دیگر سے صلاح و مشورہ کرنے اور ورکنگ کمیٹی کے فیصلہ کے بعد سپریم کورٹ کے فیصلہ پر نظر ثانی کرنے کا فیصلہ کیا تھا اور 2 دسمبر کو سپریم کورٹ آف انڈیا میں ایڈوکیٹ آن ریکارڈ اعجاز مقبول نے صدر جمعیۃ علماء ہند مولانا سیدارشد مدنی کی ہدایت پر ریویو پٹیشن داخل کردی جس میں عدالت سے 9نومبر کے فیصلہ پر نظر ثانی کرنے کی درخواست کی گئی ہے۔

جمعیۃ علما ء ہند (ا) اور اس کے صدر مولانا ارشد مدنی کا پہلے خاموشی سے بھاگوت سے ملاقات کرنا اور اب خاموشی سے بابری مسجد کے مقدمہ سے راجیو دھون کو الگ کرنا اور اس میں راجیو دھون کی جانب سے ان کے بیان کو غلط قرار دینا ان کے اوپر کئی سوال کھڑے کرتا ہے۔ مولانا ارشد کی اپنی شخصیت پر تو سوال کھڑے ہوئے ہی ہیں، ساتھ میں کھلے ذہن کے غیر مسلم حضرات جو ملک کے بنیادی نظریہ کے لئے آگے آتے ہیں، ان کو بھی سوچنے پر مجبور کر دیا ہے۔