ہریانہ میں مقامی لوگوں کے لیے 75فیصد ملازمت کا کوٹہ، کہیں خوشی کہیں غم

پی ایچ ڈی چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کا خیال ہے کہ کسی بھی ہندوستانی کو ہندوستان کی کسی بھی ریاست میں بغیر کسی پابندی کے کام کرنے کی اجازت ہونی چاہئے۔

تصویر آئی اے این ایس
تصویر آئی اے این ایس
user

قومی آوازبیورو

ہریانہ حکومت کی جانب سے نجی ملازمتوں میں مقامی لوگوں کو 75فیصد ریزرویشن فراہم کرنے والے قانون کے نوٹیفکیشن کے بعد جہاں مقامی لوگ خوش ہیں وہیں کئی ادارے اور افراد ناراض بھی ہیں۔ انڈیا انک نے ہفتے کے روز قانون سازی کی دوبارہ جانچ کا مطالبہ کرتے ہوئے یہ دعویٰ کیا کہ اس سے ملٹی نیشنل کمپنیوں کو ریاست چھوڑنا پڑسکتا ہے جس کا اثر ریاست پر پڑے گا۔ صنعتی گروپوں نے کہا کہ ریزرویشن مسابقت کو کم کرتا ہے اور تجویز کی کہ ریاستی حکومت صنعت کو 25فیصد سبسڈی فراہم کرے تاکہ ہر مقامی ملازم کے لیے ترغیب ہو۔

نیوز ۱۸ پر شائع خبر کے مطابق کنفیڈریشن آف انڈین انڈسٹری (CII) نے سخت رد عمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ، "ایسے وقت میں جب ریاستی سطح پر سرمایہ کاری کو راغب کرنا ضروری ہے، حکومتوں کو صنعت پر پابندیاں نہیں لگانی چاہئیں۔ ریزرویشن پیداواری صلاحیت اور صنعت کی مسابقت کو متاثر کرتا ہے۔’’ہم امید کرتے ہیں کہ حکومت قانون سازی کو دوبارہ دیکھے گی یا کم از کم اس بات کو یقینی بنائے گی کہ قانون منصفانہ ہو۔ ایک ملک کے طور پر، کوئی پابندی یا پابندی نہیں ہونی چاہیے۔‘‘

پی ایچ ڈی چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری (پی ایچ ڈی سی سی آئی) نے کہا کہ اس کا خیال ہے کہ کسی بھی ہندوستانی کو ہندوستان کی کسی بھی ریاست میں بغیر کسی پابندی کے کام کرنے کی اجازت ہونی چاہئے۔ ’’75 فیصد ریزرویشن کا نتیجہ یہ ہوگا کہ ٹیک کمپنیوں، آٹوموٹو کمپنیوں، خاص طور پر MNCs (ملٹی نیشنل کمپنیاں) باہر نکل جائیں گی کیونکہ یہ انتہائی ہنر مند افرادی قوت پر مبنی کمپنیاں ہیں۔‘‘

یہ قانون 15 جنوری 2022 سے نافذ العمل ہوگا۔ اس سلسلے میں ہریانہ حکومت نے ہفتہ کو ایک نوٹیفکیشن جاری کیا تھا۔ ہریانہ کے وزیر اعلیٰ منوہر لال کھٹر نے یہاں ایک سرکاری ریلیز میں کہا کہ ہریانہ اسٹیٹ ایمپلائمنٹ آف لوکل کینڈیڈیٹس ایکٹ، 2020 کا اطلاق 15 جنوری 2022 سے مقامی نوجوانوں کو نجی شعبے میں روزگار فراہم کرنے کی ترجیح کے ساتھ کیا جائے گا۔

ریلیز کے مطابق، ریاستی حکومت نے 6 نومبر 2021 کو سرکاری گزٹ میں ایک نوٹیفکیشن جاری کیا تھا، جس میں اس کے آغاز کی تاریخ 15 جنوری 2022 بتائی گئی تھی۔ ریاست نے، تاہم، ایک اور نوٹیفکیشن جاری کیا جس کے تحت مذکورہ ایکٹ کے تحت مجموعی ماہانہ تنخواہ یا اجرت کی بالائی حد کو 50,000 روپے سے کم کر کے 30,000 روپے کر دیا گیا ہے ۔

نائب وزیر اعلیٰ دشینت چوٹالہ نے کہا کہ پرائیویٹ کمپنیوں میں مقامی نوجوانوں کو 75 فیصد ملازمتیں فراہم کرنے کے ریاستی حکومت کے فیصلے سے ریاست کے نوجوانوں کو بہت فائدہ پہنچے گا۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے وعدہ کیا تھا کہ ہم پرائیویٹ سیکٹر میں مقامی امیدواروں کے لیے 75 فیصد روزگار کے مواقع کو یقینی بنائیں گے، جسے ہم نے پورا کیا ہے اور یہ ایک انقلابی قدم ثابت ہوگا۔

حکومت کے اس فیصلے سے مقامی لوگوں میں ضرور خوشی ہوگی لیکن ہریانہ کی کمپنیوں کے لئے مسائل کھڑے ہو جائیں گے کیونکہ وہ میرٹ کی بنیاد پر لوگوں کو روزگار فراہم کرتی ہیں اور ان کے یہاں زیادہ تر لوگ ہندوستان کی دیگر ریاستوں سے کام کرنے آتے ہیں ۔ ہریانہ میں موجود کمپنیوں میں ایک بڑی تعداد دہلی کے باشندوں کی ہے اور ان کی ماہانہ اجرت بھی تیس ہزار سے کم ہے۔ کیا دہلی والو کو ہریانہ کے گروگرام اور مانیسر میں اب کام کرنا مشکل ہو جائے گا۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔