حصار: قتل کے مجرم بابا رامپال کی سزا کا آج اعلان، سخت حفاظتی انتظامات

بابا رام پال کو سزا کے اعلان کے پیش نظر حصار میں حفاظتی انتظامات سخت کئے گئے ہیں۔ پولس نے ضلع کی تمام سرحدوں کو سیل کر دیا ہے۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا

قومی آوازبیورو

ہریانہ ریاست کے حصار میں واقع ستلوک آشرم کے خود ساختہ بابا رامپال کی سزا کا اعلان آج کیا جائے گا۔ گزشتہ 11 اکتوبر کو قتل کے دو مقدمات میں حصار کی عدالت نے فیصلہ سنایا تھا اور عدالت نے دونوں معاملات میں بابا رامپال کو مجرم قرار دیا تھا۔ رامپال کے ساتھ اس کے 26 پیروکاروں کو بھی مجرم قرار دیا گیا ہے۔

عدالت نے سزا کے اعلان کے لئے 16-17 اکتوبر کی تاریخ مقرر کی تھی۔ گزشتہ سماعت کے دوران حصار میں واقع سینٹرل جیل کو ہی عدالت میں تبدیل کیا گیا تھا اور آج بھی جیل میں بنی عدالت سے ہی سزا کا اعلان کیا جائے گا۔

بتایا جا رہا ہے کہ سزا کے اعلان کے بعد رامپال کی جانب سے عدالت کے فیصلہ کو ہائی کورٹ میں چیلنچ کیا جا سکتا ہے۔ سزا کے اعلان کے پیش نظر حصار میں سخت حفاظتی انتظامات کئے گئے ہیں اور انتظامیہ کی جانب سے علاقہ میں دفعہ 144 نافذ کی گئی ہے۔

حفاظت کے سخت انتظامات کئے گئے ہیں اور حصار شہر کو قلع میں تبدیل کر دیا گیا ہے۔ جیل کے اطراف تین کلومیٹر کا محاصرہ کیا گیا ہے جس کے اندر کسی بھی باہری شخص کے داخلہ پر پابندی عائد کی گئی ہے۔

جن معاملات میں رامپال کو سزا سنائی گئی ہے ان میں پہلا معاملہ ایک خاتون پیروکار کی مشتبہ حالات میں موت کا ہے جس کی لاش 18 نومبر 2014 کو ستلوک آشرم سے برآمد ہوئی تھی۔ دوسرا معاملہ اس تشدد سے وابستہ ہے جس میں رامپال کے پیروکار پولس سے بھڑ گئے تھے۔ اس دوران تقریباً 10 دن تک تشدد ہوا تھا اور 4 خواتین اور ایک بچے کی موت ہوگئی تھی۔

67 سالہ رامپال اور اس کے چیلے نومبر 2014 میں گرفتاری کے بعد سے ہی جیل میں بند ہیں۔ رامپال اور اس کے پیروکاروں کے خلاف بروالا پولس تھانہ میں 19 نومبر 2014 کو دو معاملات درج کئے گئے تھے۔