کسان مظاہرین کے ذریعہ شاہراہ جام کرنے کے خلاف سپریم کورٹ پہنچی ہریانہ حکومت

ہریانہ حکومت نے سپریم کورٹ میں سنیوکت کسان مورچہ کی 43 کسان تنظیموں کو فریق بنانے کی عرضی داخل کی، عرضی میں راکیش ٹکیت، یوگیندر یادو، درشن پال کے نام شامل ہیں

کسان تحریک / آئی اے این ایس
کسان تحریک / آئی اے این ایس
user

قومی آوازبیورو

نئی دہلی: ہریانہ حکومت نے سنیوکت کسان مورچہ کے تحت 43 کسان تنظیموں کو فریق بنانے کے لیے سپریم کورٹ میں عرضی دائر کی ہے۔ عرضی میں راکیش ٹکیت، یوگیندر یادو، درشن پال کے نام شامل ہیں۔ حکومت نے مفاد عامہ کی عرضی میں فریق بنانے کی عرضی پیش کی تھی اور اس کی اجازت سپریم کورٹ نے ہی دی تھی۔ اس معاملے کی سماعت پیر کے روز کی جائے گی۔ گزشتہ سماعت کے دوران سپریم کورٹ نے اس بات کا اعادہ کیا تھا کہ عدالت نے اس معاملے میں پہلے حکم دیا ہے، لہذا حکومت ہمیں یہ نہ بتائے کہ ہم کر نہیں پا رہے ہیں!

سپریم کورٹ نے کہا تھا کہ شاہراہوں اور سڑکوں کو بلاک نہیں کیا جانا چاہیے، قانون پہلے ہی وضع کیا جا چکا ہے۔ ہم اسے بار بار نہیں دہرا سکتے۔ اسے نافذ کرنا انتظامیہ کا فرض ہے۔ جسٹس ایس کے کول نے کہا کہ عدلیہ انتظامیہ کے حقوق کی خلاف ورزی نہیں کر سکتے۔ کسانون کو شکایت ہو سکتی ہے لیکن سڑک پر پھنسے عوام کو بھی ان سے شکایت ہے۔ سپریم کورٹ نے مرکز کو کسانوں کو فریق بنانے کی اجازت دی ہے۔


سالیسیٹر جنرل تشار مہتا نے کہا کہ ہم نے کمیٹی تشکیل دی ہے اور کسانوں کو بحث کے لیے مدعو کیا ہے لیکن انہوں نے یہ کہتے ہوئے انکار کر دیا کہ وہ اس معاملے میں فریق نہیں ہیں۔ سپریم کورٹ نے کہا کہ عدالتوں نے جو مقرر کیا ہے اس پر عملدرآمد کرنا ہوگا لیکن اگر آپ چاہتے ہیں کہ کوئی اس معاملے میں فریق بنے تو آپ کو درخواست پیش کرنا ہوگی۔

سپریم کورٹ نے درخواست گزار مونیکا اگروال سے پوچھا کہ کیا صورتحال میں کوئی بہتری آئی ہے؟ جواب میں مونیکا اگروال نے کہا کہ نہیں! تشار مہتا نے کہا کہ ہم نے تین رکنی کمیٹی تشکیل دے کر کسان رہنماؤں کو بلایا تھا اور دوسری جگہ پر دھرنا دینے کی تجویز دی تھی لیکن انہوں نے انکار کر دیا۔ سپریم کورٹ نے کہا کہ آپ اس معاملے میں عدالت میں درخواست کیوں نہیں دیتے۔ اس پر سالیسیٹر جنرل نے کہا کہ ٹھیک ہے ہم اسے دائر کریں گے۔


قبل ازیں، ہریانہ حکومت نے سپریم کورٹ میں حلف نامہ داخل کیا اور کہا کہ احتجاج کرنے والے کسانوں کو ہائی وے کو خالی کرنے کے لیے قائل کرنے کی کوششیں جاری رہیں گی۔ ریاست نے سپریم کورٹ کو بتایا ہے کہ کسان عوامی مقامات پر احتجاج کے مسئلے کو حل کرنے کے لیے قائم کردہ پینل سے نہیں ملے۔ کسانوں کے طویل احتجاج کی وجہ سے عام عوام کو کافی مشکلات کا سامنا ہے۔ کسانوں کو سڑکوں سے ہٹانے کے لئے قائل کرنے کی تمام کوششیں کی جا رہی ہیں۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔