ہریانہ: پرالی جلانے والے 105 کسانوں پر لگا تقریباً 2 لاکھ کا جرمانہ

ہریانہ کے کسانوں پر ضلع انتظامیہ کی طرف سے کی گئی کارروائی سے ناراض آئی این ایل ڈی نے تحریک شروع کرنے کا اعلان کیا ہے۔ منگل کو پارٹی لیڈران کسانوں کے ساتھ ضلع سکریٹریٹ پر مظاہرہ کریں گے۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا
user

یو این آئی

سرسا: ہریانہ کے 17 اضلاع میں اسماگ کی وجہ سے اسکولوں کو دو دن کے لئے بند کرنے کے احکامات جاری کیے گئے ہیں۔ پرالی جلانے کی وجہ سے ماحولیاتی آلودگی میں اضافہ ہواہے اور سرسا میں گزشتہ کئی روز سے کسانوں کی طرف سے جلائی جارہی پرالی سے پھیل رہی آلودگی پر کنٹرول کرنے کے لئے حکومت اور انتظامیہ نے سخت کارروائی عمل میں لانی شروع کر دی ہے۔

اسی سلسلہ میں ‘ہرسیك ‘ کی جانب سے اب تک 105 کسانوں پر ایک لاکھ 77 ہزار روپے سے زیادہ جرمانہ عائد کیا گیا ہے اور جودھكاں گاؤں کے ایک کسان کے خلاف رپورٹ بھی درج کی گئی ہے۔ کسانوں پر ضلع انتظامیہ کی طرف سے کی گئی کارروائی سے ناراض انڈین نیشنل لوک دل (آئی این ایل ڈی ) نے تحریک شروع کرنے کا اعلان کیا ہے۔


اس سلسلہ میں پارٹی کی ریاستی جنرل سکریٹری سنینا چوٹالہ اور نوجوان لیڈر ارجن چوٹالہ کی قیادت میں ضلع بھر کے کسان منگل کو ضلع سکریٹریٹ پر جمع ہوکر مظاہرہ کریں گے۔

ضلع ڈپٹی کمشنر اشوک کمار گرگ نے آج یہاں بتایا کہ دھان کی باقیات جلانے کی وجہ سے بڑھتی آلودگی کی سنگینی کو ذہن میں رکھتے ہوئے هرسیك کی جانب سے ضلع میں پرالی جلانے کے 205 مقامات کی نشاندہی کی گئی ہے۔ اس کے علاوہ 30 گاؤں کو پرالی جلانے کے لئے انتہائی حساس قرار دیا گیا ہے، ان میں گرام سبھا کے ذریعے کسانوں کو پرالی جلانے سے ہونے والے نقصان کے بارے میں آگاہ کیا جائے گا۔


انہوں نے بتایا کہ ضلع سرسا میں پرالی کو ڈسپوز کرنے کے کافی آلات ہیں اور 198’کسٹم ہائرنگ سینٹر‘ بھی قائم کیے گئے ہیں، جس سے کسان رعایتی شرح پر یا کرایہ پر بھی زرعی آلات لے کر پرالی ڈسپوز کر سکتے ہیں۔ سرسا میں 100 اسٹرا بیلریونٹ گرانٹ پر دیئے جا رہے ہیں، جس سے کسانوں کو پرالی ڈسپوز میں مدد ملے گی۔ اس کے علاوہ 60 پنچایتوں کو جہاں دھان کی پیداوار زیادہ ہوتی ہے، اپنی مرضی کے ہائرنگ سینٹر قائم کیے جا رہے ہیں۔

ڈپٹی کمشنر نے بتایا کہ گزشتہ سال کی نسبت پرالی جلانے کے واقعات میں کمی آئی ہے۔ گزشتہ سال کل 423 آتشزنی کے واقعات ہوئے تھے، جس میں 370 ایکڑ رقبہ میں فصل کی باقیات کو جلایا گیاتھا گیا تھا، جبکہ اس سال اب تک 205 مقامات پر ایسے واقعات ہوئے ہیں، جس میں 112 ایکڑ میں فصل باقیات کو جلایا گیا ہے۔


انہوں نے کسانوں سے اپیل کی کہ وہ ماحولیات کو بچانے میں تعاون کریں اور پرالی نہ جلائیں۔ پرالی جلانے والوں کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے گی اور جو شخص پرالی جلانے والوں کی اطلاع دے گا اسے ایک ہزار روپے کا انعام دیا جائے گا اور اس کی شناخت خفیہ رکھی جائے گی۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔