ہریانہ: انبالہ کے تقریباً 15 اسکولوں کو بم سے اڑانے کی ملی دھمکی، بچوں کو چھٹی دے کر تلاشی مہم ہوئی شروع
دھمکی ملنے کے بعد بم اسکواڈ کی ٹیم کو کرنال سے بلایا گیا۔ ٹیم نے اسکولوں کے اندر تلاشی شروع کی اور اس دوران اسکول انتظامیہ نے بچوں کی چھٹی کر دی گئی۔

انبالہ کے 15 سے زائد اسکولوں کو بم سے اڑانے کی دھمکیاں ملی ہیں، جس نے اسکول انتظامیہ اور طلبا کے سرپرستوں میں خوف کی لہر دوڑا دی۔ یہ دھمکی پیر کے روز بذریعہ ای میل موصول ہوئی، جس نے ایک افرا تفری کا عالم پیدا کر دیا۔ دھمکی ملنے کے بعد اسکولوں میں سیکورٹی انتظامات سخت کر دیے گئے اور فوری طور پر تلاشی مہم بھی شروع کر دی گئی۔
بتایا جا رہا ہے کہ اسکولوں کو بم سے اڑانے کی دھمکی ملنے کے بعد بیشتر اسکولوں نے بچوں کی چھٹی کا اعلان کر دیا۔ پرائیویٹ اسکول ایسو سی ایشن نے موصول دھمکیوں پر فکر کا اظہار کیا ہے اور کہا ہے کہ پورے معاملے کی جانچ چل رہی ہے۔ اس واقعہ کی جانکاری جب پولیس کو ملی تو اس نے اسکولوں میں پہنچ کر سرچ آپریشن شروع کیا، لیکن فی الحال کچھ بھی مشتبہ چیز دیکھنے کو نہیں ملی ہے۔ ابتدا میں 3 اسکولوں کو بم سے اڑانے کی دھمکی ملی تھی، لیکن کچھ منٹوں میں یہ تعداد بڑھتی گئی اور پولیس نے محاذ سنبھالتے ہوئے سبھی اسکولوں میں تلاشی شروع کر دی۔
موصولہ اطلاع کے مطابق بم اسکواڈ کی ٹیم کو کرنال سے بلایا گیا۔ اس ٹیم نے اسکولوں کے اندر تفتیش شروع کر دی۔ اس دوران اسکولوں نے بچوں کی چھٹیوں کا اعلان کر دیا۔ اس درمیان بچوں کے سرپرست بھی پریشان دکھائی دیے۔ دھمکی آمیز ای میل میں اسکول کو بم سے اڑانے اور وزیر اعلیٰ کے یومِ جمہوریہ تقریب میں بچوں کو نہ بھیجنے کی تنبیہ کی گئی ہے۔ اس میں ایک جگہ لکھا گیا ہے ’اپنے بچوں کو بچا لیا‘۔ اس ای میل میں ٹرینوں کو بھی بم سے اڑانے کی دھمکی دی گئی ہے۔
اس معاملہ میں ڈی ایس پی ہیڈکوارٹر وجئے کمار نے جانکاری دیتے ہوئے بتایا کہ پورے معاملے کی تفتیش کی جا رہی ہے اور اسکولوں سے تال میل رکھتے ہوئے تلاشی مہم شروع کی گئی ہے۔ اسکولوں کو اتنی بڑی تعداد میں دھمکی ملنے کا یہ پہلا معاملہ ہے، جسے پولیس کے ساتھ ساتھ اسکول ایسو سی ایشن بھی سنجیدگی سے لے رہی ہے۔ انھوں نے ایک خط بھی پولیس کو سونپا ہے جس میں سیکورٹی یقینی بنانے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ اسکولوں نے صاف طور پر کہا ہے کہ جب تک پولیس ہری جھنڈی نہیں دے گی، تب تک وہ اسکول نہیں کھول سکتے۔
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔