ہاپوڑ لنچنگ: یوگی کی پولس پر چلا سپریم کورٹ کا ڈنڈا، جاری ہوا وجہ بتاؤ نوٹس

ہاپوڑ موب لنچنگ میں مارے گئے قاسم کے بیٹے کی درخواست پر سپریم کورٹ نے یوپی پولس کو نوٹس جاری کر کے جواب مانگا ہے، مقتول کے بیٹے نے ایس آئی ٹی انکوائری باہر کے کسی افسر سے کرانے کا مطالبہ کیا ہے۔

قومی آوازبیورو

ہاپوڑ لنچنگ معاملے میں دائر ایک درخواست پر سماعت کرتے ہوئے سپریم کورٹ نے اترپردیش پولس کو نوٹس جاری کر کے جواب مانگا ہے، لنچنگ کے شکار ہوئے قاسم کے بیٹے کی جانب سے دائر درخواست میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ معاملے کی جانچ اتر پردیش سے باہر کی ایس آئی ٹی سے کرائی جائے۔ عرضی میں عدالت سے اپیل کی گئی ہے کہ لنچنگ معاملے کی انکوائری ریاست سے باہر کے کسی افسر کی قیادت میں ایس آئی ٹی انکوائری ہو، عرضی پر سماعت کرتے ہوئے عدالت نے اترپردیش پولس کو نوٹس جاری کر کے جواب دینے کو کہا ہے، اس کے ساتھ ہی عدالت نے اس معاملے کو سميع الدين کی درخواست کے ساتھ شامل کرلیا ہے۔

غور طلب ہے کہ اسی معاملے میں ستمبر 2018 میں سپریم کورٹ نے خصوصی حکم جاری کر کے معاملے کی جانچ میرٹھ رینج کے آئی جی کی نگرانی میں کرانے کا حکم دیا تھا، عدالت نے ہدایت دی تھی کہ آئی جی قاسم لنچنگ معاملے میں سپریم کورٹ کے سابق فیصلے کے تحت کارروائی کریں گے، بتا دیں کہ لنچنگ کو لے کر سپریم کورٹ کی طرف سے جاری گائڈلائن میں کہا گیا ہے کہ جو پولس افسران کارروائی نہیں کریں ان پر سخت کارروائی کی جائے۔

اس سے پہلے معاملے کی سماعت کے دوران آئی جی نے سیل بند لفافے میں عدالت کو اپنی رپورٹ سونپی تھی، یوپی پولس نے کورٹ کو بتایا تھا کہ قاسم لنچنگ معاملے کے 11 ملزمان میں سے اب تک 10 کی گرفتاری ہو چکی ہے، جبکہ ایک ملزم اب بھی فرار ہے، اس کو بھگوڑا ہونے کا اعلان کرنے کی کارروائی جاری ہے، درخواست گزار کی جانب سے کہا گیا تھا کہ وہ تحقیقات سے مطمئن نہیں ہیں اور معاملے کی جانچ ایس آئی ٹی کو دی جائے، جس کی قیادت باہر کے افسران کریں، اس معاملے میں یوپی پولس نے عدالت سے کہا تھا کہ وہ 60 دن کے اندر اندر اپنی انکوائری مکمل کر لے گی۔

Published: 11 Feb 2019, 6:09 PM