ہنومان چالیسہ تنازعہ: رکن پارلیمنٹ نونیت رانا اور ان کے شوہر 6 مئی تک جیل بھیجے گئے

نونیت رانا نے ادھو ٹھاکرے کی رہائش گاہ ’ماتوشری‘ کے باہر ہنومان چالیسہ پرھنے کا اعلان کیا تھا لیکن شیو سینا کے سینکڑوں کارکنان ان کے گھر پر جمع ہو گئے، بعد میں پولیس نے اس جوڑے کو گرفتار کر لیا۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا
user

قومی آوازبیورو

ممبئی: مہاراشٹر کے وزیر اعلیٰ ادھو ٹھاکرے کی رہائش گاہ کے باہر ہنومان چالیسہ پڑھنے کی دھمکی دینے والی امراوتی سے رکن پارلیمنٹ نونیت رانا اور ان کے رکن اسمبلی شوہر روی رانا کو مہاراشٹر کی عدالت سے جھٹکا لگا ہے۔ باندرا کی عدالت نے دونوں کو 14 دن کی عدالتی حراست میں بھیج دیا ہے۔ دونوں اب 6 مئی تک جیل میں رہیں گے۔ تاہم اس دوران 29 اپریل کو دونوں کی ضمانت پر سماعت ہوگی۔

دونوں کو ممبئی پولیس نے سنیچر کے روز اس وقت گرفتار کیا گیا تھا جب وہ ممبئی میں اذان کے خلاف احتجاج کرنے کے لیے وزیر اعلیٰ ادھو ٹھاکرے کی رہائش گاہ ماتوشری کے باہر ہنومان چالیسہ پڑھنے کے لیے نکلنے والے تھے۔ نونیت رانا اور روی رانا نے 23 اپریل کو وزیر اعلیٰ ٹھاکرے کی رہائش گاہ کے باہر ہنومان چالیسہ پڑھنے کا انتباہ دیا تھا۔


نونیت رانا اور روی رانا نے کہا تھا کہ وہ وزیر اعلیٰ ادھو ٹھاکرے کی رہائش ماتوشری کے باہر ہنومان چالیسہ پڑھیں گے اور اس کے لیے انہوں نے ہفتہ کی صبح 9 بجے تک کا الٹی میٹم دیا تھا، لیکن ہفتہ کے روز ان کی روانگی سے قبل ہی شیوسینا کے سینکڑوں کارکنان ان کے گھر پر جمع ہو گئے، جس کی وجہ سے وہ گھر سے باہر نہیں آ سکے۔ اس کے بعد شام کو ممبئی پولیس نے اس جوڑے کو گرفتار کر لیا۔

پولیس نے ہفتہ کے روز اطلاع دی کہ ایم پی نونیت اور روی رانا کو دفعہ 153اے یعنی مذہب کی بنیاد پر دو گروپوں کے درمیان دشمنی کو فروغ دینے کے الزام میں گرفتار کیا گیا ہے۔ دونوں کو اتوار کے روز باندرہ کی عدالت میں پیش کیا گیا۔ پولیس نے دونوں کی تحویل کا مطالبہ کیا تھا لیکن عدالت نے اسے مسترد کر دیا۔ عدالت نے دونوں کو 6 مئی تک عدالتی تحویل میں بھیجنے کا فیصلہ سنایا۔


وہیں، اس پورے معاملے پر مہاراشٹر کے وزیر داخلہ دلیپ والسے پاٹل نے کہا کہ ہنومان چالیسہ کے بہانے فساد بھڑکانے کی کوشش کی گئی۔ اس پر ضروری کارروائی کی گئی ہے، اس لیے رانا جوڑے کی گرفتاری ہوئی۔ وزیر داخلہ دلیپ والسے پاٹل نے کہا کہ ریاست میں اس طرح کا ماحول بنایا جا رہا ہے کہ یہاں صدر راج نافذ کر دیا جائے۔

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔