’ہمارا بجاج‘ کی جگہ اب نعرہ لگے گا ’ہماری چوپہیہ سائیکل‘

آٹوموبائل صنعت کی سخت مخالفت کے باوجود گڈکری نے بجاج کو مالامال کر دیا ہے، بجاج کی چوپہیہ سائیکل بھی اس کے اسکوٹر کی طرح چھا جائے گی کیوں کہ بازار میں ان کا حریف موجود نہیں ہے۔

By اوما کانت لکھیڑا

نئی دہلی: مودی راج میں کسی اور شعبہ میں کچھ کام ہوا ہو یا نہیں کم از کم کئی دہائیوں تک ہندوستان میں بجاج اسکوٹر کی بالادستی قائم کرنے والے بجاج اسکوٹر کی چوپہیہ سائیکلیں ہندوستانی بازار میں ایک اور دھماکہ کرنے جا رہی ہے۔ اب سستی کاروں سے بھی کم قیمت پر کار خریدنے کا خواب دیکھنے والوں کے لئے چوپہیہ سائیکل کا یہ نیا ماڈل ہندوستانی بازار میں ہنگامہ مچائے گا۔ اس چناوی سال میں مودی حکومت کی مہربانی سے بجاج کمپنی مالامال ہو جائے گی۔

مرکزی وزیر برائے سڑک اور نقل و حمل نے اپنے گجٹ نوٹیفکیشن میں بجاج کی اس چوپہیہ سائیکل کو غیر ٹرانسپورٹ گاڑی میں شامل کرنے کا اعلان کرکے آٹوموبائل صنعت میں تہلکہ مچا دیا ہے۔ اس مہم کے ناقدین کا کہنا ہےکہ ہندوستانی سڑکوں پر سیکورٹی اور ایمیسن (دھویں کا اخراج) کے لحاظ سے بجاج پر یہ مہربانی ایک خطرناک قدم ثابت ہوگی کیونکہ اس میں حادثوں کی صورت میں سیکورٹی کے انتظامات نہیں ہیں۔ جبکہ کاروں میں سیکورٹی کے کئی معیاروں کو یقینی بنایا جاتا ہے۔

چھ مہینے قبل نتن گڈکری یہ اشارہ دے چکے تھے کہ وہ ہندوستانی سڑکوں پر چوپہیہ سائیکلوں کو اجازت دیں گے حالانکہ انہوں نے یہ بھی اعلان کیا تھا کہ وہ الیکٹرک سائیکلوں کے پرمٹ بھی جاری کریں گے۔ لیکن ذرائع کے مطابق کوئی اس کے لئے رضامند نہیں ہوا، لہذا حکومت آرڈیننس جاری کرنے کی ہمت نہیں کر پائی۔

ہندوستانی کار بازار میں بجاج پر نتن گڈکری کی اس بڑی مہربانی سے ہڑبڑی اس لئے بھی مچی ہوئی ہے کیونکہ بجاج کے سامنے دوسرا کوئی بڑا حریف موجود نہیں ہے۔ ذرائع کے مطابق بجاج کی یہ کار بازار میں 2 لاکھ روپے میں دستیاب ہوگی۔

واضح رہے کہ چوپہیہ سائیکل یورپ کے بازار اور دنیا میں کافی مقبول ہیں۔ مہندرا اینڈ مہندرا نے ہی دہلی کے نزدیک آٹو ایکسپو میں اپنی چوپہیہ سائیکل کو پہلی بار نمائش کے لئے رکھا تھا۔ بجاج آٹو کے منیجنگ ڈائریکٹر راجیو بجاج کا دعوی ہے کہ لمبائی میں یہ گاڑ ی تیپہیہ گاڑی سے بھی چھوٹی ہوگی۔

اس کار کا وزن بھی کافی کم ہوگا۔ تپہیہ گاڑیوں کے مقابلہ میں زیادہ محفوظ ہوگی۔ یہ سردی، بارش اور دوسرے موسم میں مسافروں کے بچاؤ میں کافی مفید رہے گا۔ حالانکہ حکومت نے اپنے نوٹیفکیشن میں یہ نہیں بتایا کہ اس کا وزن کتنا ہوگا۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ اس کا وزن 450 سے 475 کلوگرام کے درمیان ہوگا۔

بجاج آٹو نے اپنی اس نئی پیشکش کے لئے مودی حکومت میں حال کے سالوں میں تیز لابنگ کے بعد حکومت کی منظوری حاصل کی ہے۔ بجاج کا دعوی ہے کہ دوپہیہ اور تپہیہ متبادل کے طور پر لوگوں کے لئے کافی فائدہ مند ثابت ہوگی۔

بجاج کا دعوی ہے کہ ہندوستان میں تقریباً 10 ہزار چوپہیہ سائیکلوں کو وہ اس سال ایکسپورٹ کر چکا ہے۔ بازار میں مانگ کو پوری کرنے کے لئے اس کا بڑا منصوبہ ہے۔آنے والے کچھ دنوں میں بجاج چوپہیہ سائیکل کو اپنے شوروم میں بکری کے لئے رکھنا شروع کر دے گا۔