صرف 20 سیکنڈ کی دیر ہوتی تو کریش ہو جاتا راہل کا جہاز: رپورٹ

کانگریس صدر راہل گاندھی جس جہاز پر سوار ہو کر کرناٹک کے شہر ہبلی جا رہے تھے، رپورٹ کے مطابق اگر 20 سیکنڈ کی بھی دیر ہوتی تو وہ حادثہ کا شکار ہو جاتا، ایک آر ٹی آئی کے جواب میں یہ انکشاف ہوا ہے۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا
user

قومی آوازبیورو

ایک انگریزی نیوز چینل نے اپنی رپورٹ میں ڈی جی سی اے کے حوالہ سے کہا ہے کہ جس جہاز پر سوار ہو کر راہل گاندھی کرناٹک کے ہبلی شہر جا رتھے ڈگمگانے کے بعد اس کو سنبھالنے میں اگر 20 سیکنڈ کی تاخیر ہو جاتی تو وہ حادثہ کا شکار ہو جاتا۔

ڈی جی سی اے (ڈائریکٹریٹ جنرل آف سیول ایوی ایشن) نے یہ انکشاف اس آر ٹی آئی کے جواب میں کیا ہے جسے انگریزی نیوز چینل ٹائمز ناؤ نے داخل کیا تھا۔ ڈی جی سی اے یا شہری ہوابازی کے ڈائریکٹریٹ نے کانگریس کی طرف سے درج شکایت کے بعد اس معاملہ کی جانچ کے لئے دو رکنی کمیٹی تشکیل دی ہے۔

ٹائمز ناؤ کے مطابق کمیٹی کی رپورٹ اس کے پاس موجود ہے، جس میں کہا گیا ہے کہ جہاز میں تکنیکی خرابی آ گئی تھی اور پائلٹوں نے اسے قابو میں کرنے کے لئے اقدام کئے۔

رپورٹ کے مطابق:

* دوران پرواز جہاز ایک جانب بہت زیادہ جھک گیا تھا جس کی وجہ سے اس کے کریش ہونے کا خدشہ تھا۔

* جس وقت جہاز میں تکنیکی گڑبڑی آئی اس وقت وہ آٹو پائلٹ موڈ میں تھا۔

* جہاز کو پائلٹوں نے فوری طور پر مینول طریقے پر قابو میں کیا۔

* اگر تکنیکی گڑبڑی کی وجہ سے جہاز کو قابو کرنے میں 20 سیکنڈ کی بھی تاخیر ہو جاتی تو جہاز حادثہ کا شکار ہو گیا ہوتا۔

حکومت نے ڈی جی سی اے کی رپورٹ کو تاحال عوامی نہیں کیا ہے۔ غور طلب ہے کہ 26 اپریل کو کانگریس صدر کچھ دیگر افراد کے ساتھ کرناٹک دورے پر گئے تھے، تبھی جہاز میں گڑبڑی ہوئی۔ اس معاملہ میں کانگریس کی جانب سے ایک تحریری شکایت کی گئی تھی۔ شکایت میں کہا گیا تھا کہ ’’راہل گاندھی جس جہاز سے کرناٹک آ رہے تھے اس میں کچھ گڑبڑی تھی اور دہلی سے پرواز بھرنے کے بعد سے محسوس ہو رہا تھا کہ وہ کریش ہو نے والا ہے۔‘‘

ڈی جی پی نیل راجو پتر کو دی گئی شکایت میں کہا گیا اس خصوصی جہاز میں کانگریس صدر راہل گاندھی کے علاوہ کوشل ودیاتھی، راہل روی، رام پریت اور راہل گوتم سوار تھے۔ کوشک ودیارتھی کی طرف سے تحریر کئے گئے خط میں کہا گیا کہ جہاز نے کرناٹک کے ہبلی کے لئے صبح تقریباً 9.20 پر پرواز بھری تھی اور اسے 11.45 بجے تک منزل تک پہنچنا تھا۔ شکایت کے مطابق 10.45 کے بعد جہاز بائیں جانب جھکنا شروع ہو گیا اور خوف ناک آواز کے ساتھ نیچے آنے لگا۔

اس واقعہ کے بعد کانگریس صدر نے دہلی کے رام لیلا میدان میں منعقدہ ایک ریلی سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ انہیں لگا شاید سب ختم ہو گیا۔ انہوں نے کیلاش مانسرور جانے کی منت مانگی تھی۔ اب اسی منت کو پورا کرنے کے لئے کیلاش مانسرور جانے کا فیصلہ کیا ہے۔

دریں اثنا کانگریس نے ڈی جی سی اے کی رپورٹ کو عوامی نہ کئے جانے کے لئے مرکزی حکومت کی تنقید کی ہے۔ کانگریس رہنما منیش تیواری نے کہا کہ راہل گاندھی کے جہاز میں خرابی کی رپورٹ حیران کرنے والی ہے۔ اس رپورٹ کو عوامی کیا جانا چاہئے اور اس بات کی جانچ ہونی چاہئے کہ یہ تکنیکی خرابی تھی یا اس کی کوئی اور وجہ تھی۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ نیوز چینل ٹائمز ناؤ کی جس آر ٹی آئی درخواست پر ڈی جی سی اے نے جواب دیا ہے اس میں کہا گیا تھا کہ یہ رپورٹ جلد عوامی کی جائے گی لیکن 12 جون 2018 کو جواب دئیے جانے کے بعد ابھی تک اس رپورٹ کو عوامی نہیں کیا گیا ہے۔

next