’گیانیش کمار کو جانا ہی ہوگا‘، کے سی وینوگوپال کا اعلان، ملک گیر احتجاج مزید تیز کرنے کا اشارہ
کانگریس جنرل سکریٹری کے سی وینوگوپال نے کہا کہ گیانیش کمار کو عہدے سے جانا ہی ہوگا۔ انہوں نے ملک گیر احتجاج کو صرف آغاز قرار دیتے ہوئے جمہوریت کے تحفظ کے نام پر مزید دباؤ بنانے کی اپیل کی

نئی دہلی، 25 ستمبر: کانگریس کے جنرل سکریٹری کے سی وینوگوپال نے چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے خلاف پارٹی کے احتجاج کو مزید تیز کرنے کا اشارہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ گیانیش کو جانا ہوگا، اور ایسا کب ہوگا یہ وقت بتائے گا۔ انہوں نے کہا کہ گیانیش کمار کو عہدے سے ہٹانے کے مطالبے پر کانگریس کے رہنماؤں اور کارکنوں کی جانب سے ملک بھر میں کیے جا رہے احتجاج صرف شروعات ہیں۔
وینوگوپال نے جمعہ کو ایکس پر اپنی پوسٹ میں کہا، ’’گیانیش جائیں گے، یہ وقت کی بات ہے۔ اور کانگریس اسے یقینی بنائے گی۔‘‘ انہوں نے کہا کہ چیف الیکشن کمشنر کی برطرفی کے مطالبے کو لے کر ملک بھر میں کانگریس کے رہنماؤں اور کارکنوں کے احتجاج کا سلسلہ جاری ہے اور آنے والے دنوں میں یہ مہم مزید وسیع ہو سکتی ہے۔
کانگریس لیڈر نے اپنی پوسٹ میں جمہوریت کے تحفظ کے لیے لوگوں سے احتجاج میں شامل ہونے کی اپیل بھی کی۔ انہوں نے کہا کہ جمہوریت کے تحفظ کے لیے فکرمند ہر ہندوستانی کو آگے آنا چاہیے اور حکومت پر دباؤ بڑھانا چاہیے۔ وینوگوپال نے حکومت اور الیکشن کمیشن پر شدید الزامات عائد کرتے ہوئے ووٹ سے متعلق مبینہ بے ضابطگیوں کو ’ووٹ کی دن دہاڑے چوری‘ قرار دیا اور ذمہ داری طے کرنے کا مطالبہ کیا۔
انہوں نے کہا کہ اس معاملے میں جو لوگ ذمہ دار ہیں، ان کے خلاف سخت کارروائی ہونی چاہیے۔ وینوگوپال نے اپنی پوسٹ میں ایسے لوگوں کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا جن پر کانگریس جمہوری نظام کو نقصان پہنچانے کی کوشش کا الزام عائد کرتی رہی ہے۔
یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب خصوصی گہری نظرثانی (ایس آئی آر) اور الیکشن کمیشن کے اندر اختلافات سے متعلق ایک رپورٹ کے بعد اپوزیشن جماعتوں نے چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے خلاف اپنے حملے تیز کر دیے ہیں۔ ایک رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ الیکشن کمشنر سکھبیر سنگھ سندھو اور وویک جوشی نے گزشتہ 10 ماہ کے دوران ایس آئی آر سے متعلق الیکشن کمیشن کے بعض اقدامات پر 14 مرتبہ اعتراضات درج کرائے۔
رپورٹ کے مطابق دونوں الیکشن کمشنروں نے نئے ووٹروں کے اندراج اور ووٹر ڈیٹا سے متعلق بعض اقدامات پر سوال اٹھائے تھے۔ اپوزیشن جماعتوں نے ان اطلاعات کو بنیاد بنا کر الیکشن کمیشن کے طریقۂ کار اور فیصلہ سازی پر سوالات اٹھائے ہیں۔ تاہم ان الزامات اور رپورٹ میں کیے گئے دعووں پر الیکشن کمیشن کا موقف بھی اس معاملے کی مکمل تصویر سمجھنے کے لیے اہم ہے۔
کانگریس اس معاملے کو پہلے ہی اپنی سیاسی مہم کا اہم حصہ بنا چکی ہے۔ وینوگوپال اس سے قبل گیانیش کمار کو عہدے سے فوری ہٹانے اور سپریم کورٹ کی نگرانی میں غیر جانب دارانہ تحقیقات کا مطالبہ کر چکے ہیں۔ پارٹی کا الزام ہے کہ ایس آئی آر کے دوران بڑی تعداد میں حقیقی ووٹروں کے نام متاثر ہوئے اور انتخابی عمل میں بے ضابطگیاں ہوئیں۔
دوسری جانب، الیکشن کمیشن کے حوالے سے سامنے آنے والے اختلافات پر اپوزیشن کے دیگر رہنماؤں نے بھی ردعمل ظاہر کیا ہے۔ شیوسینا (یو بی ٹی) کے رکن پارلیمنٹ سنجے راؤت نے 23 ستمبر کو گیانیش کمار کے خلاف سخت کارروائی کا مطالبہ کرتے ہوئے ان کی گرفتاری تک کی بات کہی تھی۔
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
