’گیانیش کمار دراصل مودی-شاہ کے امپائر ہیں‘، ایس آئی آر تنازعہ پر راہل گاندھی نے مرکز پر پھر کیا حملہ
کیرالہ کے سابق چیف سکریٹری جیجی تھامسن نے دعویٰ کیا ہے کہ چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار نے انہیں 2019 کے لوک سبھا انتخابات میں بی جے پی کے ٹکٹ پر الیکشن لڑنے کے لیے کہا تھا۔

ایس آئی آر میں بے ضابطگی سے متعلق الیکشن کمیشن اپوزیشن کے نشانے پر ہے۔ خصوصاً لوک سبھا میں حزب اختلاف کے قائد راہل گاندھی مستقل چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کی تنقید کر رہے ہیں۔ آج ایک بار پھر وہ گیانیش کمار اور بی جے پی کو نشانہ بناتے ہوئے نظر آئے۔ انھوں نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر ایک پوسٹ جاری کیا ہے، جس میں لکھا ہے کہ ’’سب سے پہلے گیانیش کمار، جو اس وقت آئی اے ایس کے عہدے پر فائز تھے، کو بی جے پی کے لیے لوگوں کی بھرتی کرنے کے کام میں استعمال کیا گیا۔ پھر مودی اور شاہ نے انہیں امپائر بنا دیا اور ہندوستان کے انتخابات میں میچ فکسنگ کی ذمہ داری انہیں سونپ دی۔‘‘
راہل گاندھی نے اپنی سوشل میڈیا پوسٹ کے ساتھ کیرالہ کانگریس کی ’ایکس‘ پوسٹ بھی شیئر کی، جس میں کیرالہ کے سابق چیف سکریٹری جیجی تھامسن نے دعویٰ کیا ہے کہ چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار نے انہیں 2019 کے لوک سبھا انتخابات میں بی جے پی کے ٹکٹ پر الیکشن لڑنے کے لیے کہا تھا۔ تھامسن کے مطابق دہلی جانے والی ایک پرواز کے دوران گیانیش کمار نے وزیر اعظم نریندر مودی کی تعریف کرتے ہوئے انہیں 2019 میں پتھنم تھٹا سیٹ سے بی جے پی امیدوار کے طور پر انتخاب لڑنے کی پیش کش کی تھی۔
اس سے قبل انگریزی روزنامہ ’دی انڈین ایکسپریس‘ کی ایک رپورٹ نے گیانیش کمار کو کٹہرے میں کھڑا کر دیا تھا۔ اس رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ 10 ماہ کے دوران 14 مواقع پر 2 الیکشن کمشنرز نے کمیشن کے فیصلوں پر باضابطہ اعتراض ظاہر کیا تھا۔ رپورٹ کے مطابق یہ اعتراضات مختلف فیصلوں اور طریقۂ کار سے متعلق تھے۔ رپورٹ سامنے آنے کے بعد کانگریس سمیت دیگر اپوزیشن پارٹیاں گیانیش کمار کے خلاف آواز اٹھانے لگیں، اب کیرالہ کانگریس کی پوسٹ نے مزید ہلچل بڑھا دی ہے۔
اس تنازعہ کے درمیان ہفتہ (26 ستمبر) کو دہلی میں دوپہر 3 بجے ’نرواچن سدن‘ میں الیکشن کمیشن کی اہم میٹنگ ہوئی، جس میں چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے ساتھ دونوں الیکشن کمشنرز بھی موجود تھے۔ الیکشن کمیشن آف انڈیا (ای سی آئی) نے واضح کیا کہ حالیہ مہینوں میں بہار، بنگال سمیت دیگر ریاستوں میں ووٹر لسٹ کی خصوصی گہری نظرثانی (ایس آئی آر) سے متعلق جو فیصلے کیے گئے، وہ تمام فیصلے اتفاق رائے سے لیے گئے تھے۔ ظاہر ہے یہ وضاحت کانگریس کے سرکردہ لیڈران کے الزام کو سامنے رکھتے ہوئے دی گئی ہے، حالانکہ کئی سوال ایسے ہیں جو ہنوز جواب طلب ہیں۔
