سپریم کورٹ پہنچا گیان واپی مسجد تنازعہ، عدالت کا سروے کے فیصلے پر اسٹے لگانے سے انکار

سپریم کورٹ نے گیان واپی مسجد سروے کے کام کو روکنے کی درخواست پر کوئی فوری حکم جاری کرنے اور مسجد کے سروے کے فیصلے پر اسٹے لگانے سے انکار کر دیا

گیان واپی مسجد/تصویر آئی اے این ایس
گیان واپی مسجد/تصویر آئی اے این ایس
user

یو این آئی

نئی دہلی: سپریم کورٹ نے جمعہ کو اتر پردیش میں وارانسی میں کاشی وشوناتھ مندر-گیان واپی مسجد کمپلیکس میں سروے کے کام کو روکنے کی درخواست اور وارانسی کی عدالت کے فیصلہ پر اسٹے لگانے سے منع کرتے ہوئے کوئی فوری حکم جاری کرنے سے انکار کر دیا۔ چیف جسٹس این۔ وی رمن کی سربراہی والی بنچ نے کہا کہ ’’ہم اس معاملے سے واقف نہیں ہیں، تو ہم حکم کیسے پاس کر سکتے ہیں؟‘‘

تاہم سپریم کورٹ نے کہا کہ متعلقہ دستاویزات کو دیکھنے کے بعد ہم اسے لسٹیڈ کریں گے۔ سینئر وکیل ایچ احمدی، جو ٹرائل کورٹ کے حکم سے پہلے جمود برقرار رکھنے کی کوشش کر رہے ہیں، نے عدالت عظمیٰ کو بتایا کہ یہ سروے آج (13 مئی) کیا جا رہا ہے۔ اس معاملے کی فوری سماعت کی ضرورت ہے۔ اس پر عدالت نے کہا کہ وہ ابھی کوئی حکم نہیں دے سکتی۔ وہ اس معاملے کو لسٹیڈ کرے گی۔


احمدی نے خصوصی تذکرہ کے دوران اس معاملے کو فوری قرار دیا تھا اور فوری سماعت کرتے ہوئے سروے پر روک لگانے کی درخواست کی تھی۔ انجمن انتظامیہ مسجد وارانسی کی انتظامی کمیٹی نے سپریم کورٹ میں عرضی دائر کی تھی جس میں سروے کو فوری طور پر روکنے کا حکم دینے کا مطالبہ کیا گیا تھا۔

انتظامی کمیٹی نے اپنی عرضی میں الہ آباد ہائی کورٹ کے 21 اپریل کے حکم کی درستگی کو چیلنج کیا ہے۔ ہائی کورٹ نے نچلی عدالت کے حکم کے خلاف دائر درخواست کو خارج کر دیا تھا۔ سول کورٹ نے سروے کا حکم دیا تھا۔

بہت سے ہندوؤں کا ماننا ہے کہ کاشی وشوناتھ مندر۔ گیان واپی مسجد کے احاطے کے اندر ماں شرنگار گوری کا مندر ہے۔ اس عقیدے کی وجہ سے پانچ ہندو خواتین نے نچلی عدالت میں درخواست دائر کی تھی جس میں روزانہ کی پوجا کی اجازت مانگی گئی تھی۔ عدالت نے گزشتہ ماہ متعلقہ فریقین کے دلائل سننے کے بعد سروے کا حکم دیا تھا۔ عدالت نے جمعرات کو کہا تھا کہ سروے مکمل گیان واپی مسجد بشمول تہہ خانے اور بند کمروں میں جاری رہے گا۔مسلم جماعتوں نے سروے کرانے کے حکم کی مخالفت کی تھی۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔