گٹکھے پر پابندی کا حکم واپس نہیں لیا گیا: کرناٹک کے وزیر صحت یو ٹی قادر

میڈیا سے گفتگور کرتے ہوئے یو ٹی قادر نے کہا کہ ’’پان مسالے میں نکوٹین پر پابندی عائد کرنے کا فیصلہ عوامی صحت کے مفاد میں کیا گیا ہے اور اس سے سپاری پیدا کرنے والے کسانوں پر کوئی منفی اثر نہیں پڑے گا‘‘

<div class="paragraphs"><p>کرناٹک کے وزیر صحت یو ٹی قادر، تصویر/آئی اے این ایس</p></div>
i

کرناٹک حکومت کی جانب سے ریاست میں گٹکھے پر پابندی واپس لیے جانے کی افواہوں کے درمیان ریاست کے وزیر صحت یو ٹی قادر نے ہفتہ کو واضح کیا کہ حکومت نے صرف نکوٹین والے گٹکھے اور پان مسالے پر پابندی عائد کرنے کا حکم جاری کیا ہے اور اسے واپس نہیں لیا گیا ہے۔ بنگلورو میں میڈیا سے گفتگور کرتے ہوئے یو ٹی قادر نے کہا کہ پان مسالے میں نکوٹین پر پابندی عائد کرنے کا فیصلہ عوامی صحت کے مفاد میں کیا گیا ہے اور اس سے سپاری پیدا کرنے والے کسانوں پر کوئی منفی اثر نہیں پڑے گا۔

یو ٹی قادر نے کہا کہ ’’یہ حکم صرف پان مسالے میں موجود نکوٹین کے خلاف ہے۔ سپاری پر کوئی پابندی نہیں ہے۔ ہمارا محکمہ اور حکومت سپاری پیدا کرنے والوں، کسانوں اور تاجروں کو مکمل تعاون اور حوصلہ افزائی فراہم کرتی رہیں گے۔‘‘ وزیر صحت نے کہا کہ اس فیصلے سے سپاری کے کسانوں کو کوئی نقصان نہیں ہوگا، بلکہ اس سے سپاری کی قیمتوں میں اضافہ بھی ہو سکتا ہے۔ ان کا دعویٰ ہے کہ عام طور پر ہندوستانی سپاری کا استعمال گٹکھا بنانے میں نہیں کیا جاتا بلکہ گٹکھا تیار کرنے والے نیپال اور بنگلہ دیش جیسے ممالک سے سپاری منگواتے ہیں۔ ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ سپاری کے کاروبار سے وابستہ لوگوں کو اس فیصلے سے کوئی پریشانی نہیں ہوگی۔ صرف 3 ماہ انتظار کر کے دیکھ لیجیے۔


وزیر صحت نے یاد دلایا کہ جب حکومت نے پہلے گٹکھے پر پابندی عائد کرنے کی پہل کی تھی، تب بھی اسی طرح کے خدشات ظاہر کیے گئے تھے۔ یو ٹی قادر نے کہا کہ اس وقت انہوں نے اس فیصلے کی بھرپور حمایت کی تھی اور وزیراعلیٰ ڈی کے شیوکمار نے بھی ان کا ساتھ دیا تھا۔ وزیر صحت نے کہا کہ ہم نے اس وقت بھی کہا تھا کہ سپاری کی قیمتیں نہیں گریں گی۔ 3 ماہ بعد سپاری کی قیمتیں بڑھ گئی تھیں۔ ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ پان مسالے میں نکوٹین پر پابندی کا تازہ فیصلہ بھی سپاری پیدا کرنے والوں کو متاثر نہیں کرے گا۔

قادر نے مزید کہا کہ حکومت نے ایسا کوئی فیصلہ نہیں کیا ہے جس سے سپاری کے کسانوں اور تاجروں کو نقصان پہنچے۔ حکومت آئندہ بھی ان کی حمایت جاری رکھے گی۔ انہوں نے بتایا کہ وزیراعلیٰ شیوکمار نے اس معاملے پر بات چیت کی ہے اور واضح کیا ہے کہ عوام کی صحت سب سے زیادہ ترجیح ہونی چاہیے، ساتھ ہی یہ بھی یقینی بنایا جائے کہ سپاری پیدا کرنے والے کسانوں کو کسی قسم کی پریشانی کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ وزیر صحت نے کہا کہ ’’وزیراعلیٰ نے بھی واضح کر دیا ہے کہ سپاری کے کسانوں کو کسی طرح کی دشواری نہیں ہونی چاہیے۔ صحت کے نقطۂ نظر سے یہ ایک اچھا فیصلہ ہے۔‘‘


قابل ذکر ہے کہ کرناٹک بی جے پی کے صدر بی وائی وجیندر نے الزام عائد کیا تھا کہ ریاستی حکومت گٹکھے پر پابندی کے ذریعے کسانوں اور سپاری پیدا کرنے والوں کے مفادات کو نقصان پہنچانے کی کوشش کر رہی ہے، جس سے ریاست بھر کے کسانوں میں خوف اور غیر یقینی کی صورتحال پیدا ہو رہی ہے۔  ایسی خبریں بھی سامنے آئی تھیں کہ کرناٹک حکومت گٹکھے پر پابندی کا حکم نافذ ہونے کے چند ہی دن بعد اسے واپس لینے پر غور کر رہی ہے۔ مختلف سیاسی جماعتوں کے ارکان اسمبلی نے اس پر ناراضی ظاہر کرتے ہوئے کہا تھا کہ اس سے ریاست کے کئی اضلاع میں سپاری پیدا کرنے والے کسان متاثر ہو سکتے ہیں۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔