گئو رکشا کے نام پر مسلم ڈرائیور کی موب لنچنگ، ہتھوڑے سے مار مار کر کیا نیم جان

گئو رشکوں نے لقمان نامی ڈرائیور کو ہراساں کیا اور تشدد کا نشانہ بنایا، اس پر ڈنڈوں، ہتھوڑوں، لاتوں اور گھونسوں کی بارش کر دی گئی۔ یہ واردات قومی راجدھانی خطہ کے شہر گڑگاؤں (گروگرام) میں انجام دی گئی

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا
user

قومی آوازبیورو

گڑگاؤں: گئو رکشا کے نام پر ہندو انتہاپسندوں کی جانب سے مسلمانوں پر مظالم کا سلسلہ لگاتار جاری ہے اور عید الاضحیٰ کے موقع پر بھی گئو رشکوں نے ایک مسلم ڈرائیور کو ہراساں کیا اور تشدد کا نشانہ بنایا اور ڈنڈوں، ہتھوڑوں، لاتوں اور گھونسوں کی بارش کر دی گئی۔ یہ واردات قومی راجدھانی خطہ کے شہر گڑگاؤں (گروگرام) میں انجام دی گئی۔

میڈیا رپورٹ کے مطابق ہریانہ کے شہرگڑگاؤں میں لقمان نامی ٹرک ڈرائیور پک اپ گاڑی میں بھینس کا گوشت لے کر جا رہا تھا، اسے راستہ میں ہی گئو رکشکوں نے گھیر لیا اور اس پر گائے کا گوشت لے جانے کا الزام لگا کر تشدد شروع کر دیا۔ گئو رکشکوں نے لقمان بری طرح زد و کوب کرنا شروع کر دیا اور اس پر ڈنڈوں، ہتھوڑوں، لاتوں اور گھونسوں کی بارش کر دی۔

واقعہ کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہو رہی ہے۔ ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ مبینہ گئو رکشک لقمان کے پیر پر ہتھوڑے سے وار کر رہا ہے جبکہ دوسرے شخص نے اس کا پیر پکڑا ہوا ہے۔ لقمان کے جسم پر ہتھوڑے سے یکے بعد دیگرے کئی وار کئے گئے اور انتہاپسندوں نے لقمام کو پیٹ پیٹ کر نیم جان کر دیا۔ گئو رکشکوں نے یہیں پر بس نہیں کیا، انہوں نے لقمان کو اسی ٹرک میں ڈالا اور بادشاہ پور گاؤں لے گئے اور پھر اسے قتل کرنے کی نیت سے زد دو کوب کیا۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا

اس دوران عوام اور پولیس خاموش تماشائی بنی رہی۔ حالت غیر ہونے پر ڈرائیور کو اسپتال منتقل کرکے نا معلوم افراد کے خلاف ایف آئی آر درج کی گئی ہے۔ پک اپ گاڑی کے مالک کا کہنا ہے کہ وہ گزشتہ 50 سال سے بھینس کے گوشت کا کاروبار کر رہا ہے۔ پولیس نے ایک حملہ آور پردیپ یادو کو گرفتار کر لیا ہے۔

Published: 2 Aug 2020, 9:20 AM
next