ایک ہفتہ پہلے کورونا ویکسین لینے والی ’ہیلتھ ورکر‘ کی موت، پوسٹ مارٹم رپورٹ کا انتظار

سرکاری ایجنسیوں نے تاحال کسی بھی معاملہ کو ویکسین سے منسلک قرار نہیں دیا ہے تاہم اب تک ویکسین لینے والے متعدد افراد میں منفی اثرات نظر آ چکے ہیں

کورونا ویکسین / تصویر یو این آئی
کورونا ویکسین / تصویر یو این آئی
user

قومی آوازبیورو

نئی دہلی: گڑگاؤں میں ایک 56 سالہ طبی اہل کار کی کورونا ویکسین کوی شیلڈ دئے جانے کے کچھ دن بعد موت واقع ہو گئی ہے۔ ہیلتھ ورکر کی جمعہ کے روز موت واقع ہوئی، ڈاکڑروں کا کہنا ہے کہ موت کے اسباب تاحال واضح نہیں ہیں اور پوسٹ مارٹم کا انتظار کیا جا رہا ہے۔

خیال رہے کہ ملک میں اب تک 10 لاکھ سے زیادہ افراد کورونا کا ٹیکہ لگوا چکے ہیں۔ ہندوستان میں کووی شیلڈ اور کوویکسین کا ٹیکہ لگایا جا رہا ہے۔

فوت ہونے والی طبی اہلکار کے اہل خانہ کا کہنا تھا کہ 56 سالہ راجونتی جمعہ کی صبح جب نیند سے بیدار نہیں ہوئیں تو گھر والوں کو فکر ہوئی۔ انہیں میدانتا اسپتال لے جایا گیا، جہاں انہیں مردہ قرار دے دیا گیا۔

ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ جس دن راجونتی کو یہ کورونا ویکسین دی گئی تھی، ان میں کوئی منفی اثرات نظر نہیں آئے تھے۔گڑگاؤں کے چیف میڈیکل آفیسر ڈاکٹر وریندر یادو کا کہنا ہے کہ پوسٹ مارٹم رپورٹ آنے کے بعد ہی موت کی وجہ معلوم ہو پائے گی۔ انہوں نے کہا کہ پوسٹ مارٹم رپورٹ آنے سے پہلے یہ کہنا درست نہیں ہوگا کہ راجونتی کی موت ویکسین لینے کی وجہ سے ہوئی ہے۔

اس سے قبل، یوپی کے مراد آباد میں کورونا ویکسین لینے کے کچھ دن بعد ایک وارڈ بوائے کی موت کا واقعہ سامنے آیا تھا، اگرچہ پوسٹ مارٹم رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ اس کی موت دل کا دورہ پڑنے سے ہوئی ہے۔ بھارت میں ملک گیر ٹیکہ کاری پروگرام گذشتہ ہفتہ سے شروع ہوا تھا۔ پہلے مرحلے میں تین کروڑ صحت کارکنوں اور فرنٹ لائن ورکرز کو ٹیکہ لگایا جانا ہے۔ اس کے بعد یہ ویکسین پچاس سال سے اوپر اور شدید بیماریوں میں مبتلا افراد کو دی جائے گی۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔