ڈرافٹ ووٹر لسٹ سے نام کٹنے پر گردیپ سنگھ سپل الیکشن کمیشن کے جواب سے غیر مطمئن
الیکشن کمیشن کی وضاحت کے بعد کانگریس لیڈر نے کہا کہ وہ ہنگامہ کھڑا نہیں کرنا چاہتے بلکہ ایس آئی آر کے اس طریقۂ کار پر سوال اٹھا رہے ہیں جس میں پتا بدلنے پر ووٹر کا پرانا انتخابی ریکارڈ ختم ہو جاتا ہے

اتر پردیش میں خصوصی گہری نظرثانی (ایس آئی آر) کے تحت جاری کی گئی ڈرافٹ ووٹر لسٹ سے اپنا اور پورے کنبے کا نام غائب ہونے کے معاملے پر کانگریس لیڈر گردیپ سنگھ سپل نے الیکشن کمیشن کے جواب کے باوجود انتخابی طریقۂ کار پر سوال اٹھائے ہیں۔ بدھ کے روز الیکشن کمیشن کی وضاحت کے بعد سپل نے واضح کیا کہ ان کا مقصد ہنگامہ کھڑا کرنا نہیں بلکہ اس نظام کی خامی کی نشاندہی کرنا ہے جس میں پتا تبدیل ہونے کی صورت میں پرانے، حقیقی ووٹر کا انتخابی ریکارڈ برقرار رکھنے کا کوئی واضح بندوبست موجود نہیں ہے۔
الیکشن کمیشن نے اس معاملے پر کہا ہے کہ بوتھ لیول افسر نے قواعد کے مطابق کارروائی کی ہے اور جن ووٹروں کا پتا بدلا ہے، انہیں فارم چھ کے ذریعے دوبارہ اندراج کرانا ہوگا۔ چیف الیکشن آفیسر کے مطابق فی الحال ایس آئی آر کا ابتدائی مرحلہ مکمل ہوا ہے اور حتمی ووٹر لسٹ بعد میں جاری کی جائے گی۔ کمیشن کا کہنا ہے کہ اصل اہمیت اس بات کی ہے کہ ووٹر کا نام آخری فہرست میں شامل ہو۔
اس وضاحت کے بعد سپل نے کہا کہ انہوں نے پہلے ہی واضح کر دیا تھا کہ وہ نہ تو بوتھ لیول افسر کو قصوروار ٹھہرا رہے ہیں اور نہ ہی پرانے پتے سے نام خارج کیے جانے پر اعتراض ہے۔ ان کے مطابق مسئلہ افسران کا نہیں بلکہ الیکشن کمیشن کے اس ضابطے کا ہے جس میں ایک حلقے سے دوسرے حلقے میں منتقل ہونے والے ووٹر کے پچھلے انتخابی ریکارڈ کو محفوظ رکھنے کا کوئی نظام موجود نہیں ہے۔
سپل کا کہنا ہے کہ اگر ووٹر کو فارم چھ بھر کر نئے ووٹر کے طور پر شامل کیا جاتا ہے تو اس کے ساتھ ہی اس کا پچھلے کئی دہائیوں پر محیط انتخابی ریکارڈ ختم ہو جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان کے اپنے معاملے میں یہ ریکارڈ پینتیس برس کا ہے، جو محض ایک انتظامی عمل کے سبب مٹ جائے گا۔ ان کے مطابق یہ صرف ان کا مسئلہ نہیں بلکہ ایسے کروڑوں حقیقی ووٹرز اس صورت حال سے متاثر ہو سکتے ہیں جنہوں نے وقت کے ساتھ اپنا رہائشی پتہ بدلا ہے۔
کانگریس لیڈر نے اس بات پر بھی تشویش ظاہر کی کہ ہر متاثرہ ووٹر کے لیے فارم چھ بھرنا اور دوبارہ اندراج کرانا عملی طور پر ممکن نہیں ہوگا، خاص طور پر ان لوگوں کے لیے جو عمر رسیدہ ہیں یا جنہیں انتخابی عمل کی پیچیدگیوں کا مکمل علم نہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ایس آئی آر جیسے بڑے عمل میں اس طرح کی خامیاں جمہوری حق رائے دہی کو کمزور کر سکتی ہیں۔
سپل نے زور دے کر کہا کہ ان کی مداخلت کا مقصد صرف ذاتی شکایت درج کرانا نہیں بلکہ اس بات کو یقینی بنانا ہے کہ الیکشن کمیشن آئندہ حتمی ووٹر لسٹ جاری کرنے سے پہلے ایسے طریقۂ کار وضع کرے، جن کے ذریعے پتا تبدیل کرنے والے حقیقی ووٹروں کا تسلسل اور انتخابی شناخت محفوظ رہ سکے۔
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔