گھٹن بھرے ماحول پر جاوید اختر نے کیا ’شکوہ‘ تو گلزار نے لکھ دیا ’جواب شکوہ‘

موجودہ مشکل دور میں لوگوں کی خاموشی کے مدنظر جب جاوید اختر نے اپنا درد ایک نظم کے ذریعہ بیان کیا تو اس میں ان کی تڑپ کے ساتھ ایک شکوہ بھی تھا۔ اب اس شکوہ کا جواب گلزار نے اپنی نظم میں دیا ہے۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا

قومی آوازبیورو

اردو شاعری کی ایک روایت رہی ہے کہ جب کسی اہم مسئلہ یا ایشو پر کوئی شاعر اپنے ہم عصر شاعر کو پکارتا ہے تو اس کا جواب بھی اسی انداز میں دیا جاتا ہے۔ فیض احمد فیض اور مرزا غالب کے زمانے سے یہ دستور چلا آ رہا ہے۔ اس عمل کو مشہور و معروف شاعر علامہ اقبال کی نظم ’شکوہ‘ اور ’جواب شکوہ؍ کا نام دیا جاتا رہا ہے۔ اسی شکوہ اور جواب شکوہ پر اب اپنی چھوٹی سی نظم کے ساتھ مشہور شاعر، نغمہ نگار اور فلمساز گلزار نے اپنی بات کہی ہے اور جاوید اختر کو جواب لکھا ہے۔

صرف تین اشعار کی اس نظم میں گلزار نے کہا ہے کہ ان کی قلم خاموش نہیں ہے اور نہ ہی کالی پڑی ہے۔ جاوید اختر کے نام عنوان سے لکھی اس نظم میں گلزار کہتے ہیں:

جادو، بیاں تمھارا، اور پکار سنی ہے

تم ’ایکلا‘ نہیں، ہم نے وہ للکار سنی ہے

بولی لگی تھی کل، کہ سنہاسن بکاؤ تھی

نیلام ہوتی کل، سرِ بازار سنی تھی

تم نے بھی خونِ دل میں ڈبوئی ہیں انگلیاں

ہم نے قلم کی پہلے بھی جھنکار سنی ہے

دراصل ہوا یوں کہ ابھی اسی مہینے دہلی کے ماڈرن اسکول میں ہوئے شنکر-شاد مشاعرے میں جاوید اختر نے اپنی بالکل تازہ نظم سنائی تھی۔ اس مشاعرے میں تقریباً 15 معروف شعراء نے حصہ لیا تھا۔ جاوید اختر نے اس نظم میں تمام شاعروں و مصنّفین سے التجا کی تھی کہ وہ اپنی قلم کو خاموش نہ بیٹھنے دیں، موجودہ حالات پر بولیں۔ انھوں نے تمام شعراء سے ان کے ہونے کی گواہی مانگی تھی۔ جاوید اختر کی وہ نظم کچھ اس طرح تھی...

جو بات کہتے ڈرتے ہیں سب، تو وہ بات لکھ

اتنی اندھیری تھی نہ کبھی پہلے رات لکھ

جن سے قصیدے لکھے تھے، وہ پھینک دے قلم

پھر خونِ دل سے سچے قلم کی صفات لکھ

جو روزناموں میں کہیں پاتی نہیں جگہ

جو روز ہر جگہ کی ہے، وہ واردات لکھ

جتنے بھی تنگ دائرے ہیں سارے توڑ دے

اب آ کھلی فضاؤں میں اب کائنات لکھ

جو واقعات ہو گئے ان کا تو ذکر ہے

لیکن جو ہونے چاہئیں وہ واقعات لکھ

اس باغ میں جو دیکھنی ہے تجھ کو پھر بہار

تو ڈال-ڈال سے سدا، تو پات-پات لکھ

Published: 23 Mar 2019, 9:09 PM