گجرات میں ایس آئی آر کے بعد ووٹر لسٹ میں 13.40 فیصد کمی، 68 لاکھ سے زائد نام خارج

گجرات میں خصوصی جامع نظرثانی کے بعد ووٹر لسٹ سے 68 لاکھ سے زائد نام خارج ہو گئے اور مجموعی تعداد میں 13.40 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی، جبکہ لکشدیپ اور پڈوچیری میں بھی فہرستیں کم ہوئیں

<div class="paragraphs"><p>یو این آئی</p></div>
i
user

قومی آواز بیورو

گجرات میں ووٹر لسٹوں کی خصوصی جامع نظرثانی یعنی ایس آئی آر کے بعد ووٹروں کی تعداد میں نمایاں کمی درج کی گئی ہے۔ الیکشن کمیشن کے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق اس عمل کے آغاز پر ریاست میں ووٹرز کی کل تعداد 5,08,43,436 تھی، جو نظرثانی مکمل ہونے کے بعد گھٹ کر 4,40,30,725 رہ گئی ہے۔ اس طرح مجموعی طور پر 68,12,711 نام فہرست سے خارج ہوئے اور ووٹر لسٹ میں 13.40 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی۔

کمیشن کے مطابق یہ کمی بنیادی طور پر انتقال کر جانے والے افراد، مستقل طور پر دوسرے علاقوں میں منتقل ہونے والے شہریوں اور ایک سے زیادہ مقامات پر رجسٹرڈ ووٹروں کے نام حذف کیے جانے کے باعث ہوئی ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ نظرثانی کا مقصد انتخابی فہرستوں کو درست اور شفاف بنانا ہے تاکہ کسی بھی قسم کی بے ضابطگی کی گنجائش باقی نہ رہے۔

مرکز کے زیرِ انتظام علاقوں میں بھی ایس آئی آر کے بعد تبدیلیاں سامنے آئی ہیں۔ لکشدیپ میں نظرثانی کے آغاز پر ووٹروں کی تعداد 57,813 تھی جو عمل مکمل ہونے پر 57,607 رہ گئی، یعنی 0.36 فیصد کمی واقع ہوئی۔ اسی طرح پڈوچیری میں ووٹرز کی تعداد 10,21,578 سے گھٹ کر 9,44,211 ہو گئی ہے اور یہاں مجموعی طور پر 77,367 نام کم ہوئے، جو 7.57 فیصد کمی کے برابر ہے۔


الیکشن کمیشن کا کہنا ہے کہ جہاں غیر مستند یا دہری اندراجات کو ختم کیا گیا ہے وہیں نئے اہل شہریوں کے نام بھی شامل کیے گئے ہیں۔ ایسے نوجوان جنہوں نے 18 سال کی عمر مکمل کر لی، ریاست کے مستقل رہائشی ہیں اور مقررہ طریقہ کار کے تحت درخواست فارم جمع کرایا، ان کے نام فہرست میں درج کیے گئے ہیں۔ کمیشن کے مطابق یہ عمل انتخابی شفافیت کو یقینی بنانے کے لیے باقاعدہ جانچ پڑتال کے بعد مکمل کیا گیا۔

واضح رہے کہ کمیشن اس سے قبل بہار میں ایس آئی آر اور آسام میں مختصر نظرثانی یعنی ایس آر کا عمل مکمل کر چکا ہے۔ مزید برآں انڈمان و نکوبار جزائر، چنڈی گڑھ، مدھیہ پردیش، راجستھان، کیرالہ اور گوا میں بھی ایس آئی آر کی بنیاد پر حتمی ووٹر فہرست 21 فروری کو جاری کیے جانے کا اعلان کیا گیا ہے۔ کمیشن کا کہنا ہے کہ نظرثانی کا یہ سلسلہ انتخابی عمل کو زیادہ مؤثر اور قابل اعتماد بنانے کی کوششوں کا حصہ ہے۔