گجرات انتخابات: ملکارجن کھڑگے کا بی جے پی اور وزیر اعظم مودی پر حملہ، عوامی مسائل پر پوچھے کئی سوالات

ملکارجن کھڑگے نے کہا کہ بی جے پی نے گجرات میں تعلیم کا معیار گرا دیا ہے، بچوں کے مستقبل کو خراب کیا ہے۔ گجرات میں اساتذہ کی 28000 آسامیاں خالی ہیں۔ 700 پرائمری اسکولوں میں صرف ایک ہی استاد موجود ہے۔

کانگریس صدر ملکارجن کھڑگے
کانگریس صدر ملکارجن کھڑگے
user

قومی آوازبیورو

گاندھی نگر: گجرات میں انتخابات کے پہلے مرحلے کی مہم کا شور آج ختم ہو جائے گا۔ اس دوران کانگریس صدر ملکارجن کھڑگے نے گجرات سے متعلق اہم مسائل اٹھائے اور وزیر اعظم نریندر مودی اور ان کی پارٹی بی جے پی کو ہدف تنقید بنایا۔ کھڑگے نے ٹوئٹ کیا، ’’نریندر مودی جی، یوں ادھر ادھر کی بات مت کیجئے، یہ بتائیں کہ قافلہ کیوں لٹا؟ کیوں گجرات کا ہر طبقہ - نوجوان، کسان، خواتین، چھوٹے تاجر، دلت، قبائلی، پسماندہ طبقات بی جے پی سے پریشان ہیں!

کھڑگے نے کہا، ’’گجرات کے لوگوں کی آمدنی قومی اوسط سے کم ہے! نوٹ بندی، غلط جی ایس ٹی اور کورونا کے دور میں مدد کی کمی نے گجرات کے ہر طبقے کی کمر توڑ دی ہے۔ مہنگائی کی مسلسل لرزش سے عوام کا جینا محال ہو گیا ہے۔ آٹا، دالوں، دودھ، بچوں کی پنسل، ادویات، علاج پر جی ایس ٹی لگایا گیا ہے۔‘‘


کسانوں سے متعلق مسائل کو اٹھاتے ہوئے کھڑگے نے بی جے پی سے سوال کیا "گجرات کے کسانوں کو دھوکہ، ایم ایس پی میں اضافہ کم ترین سطح پر! مودی جی نے ملک کے کسانوں سے وعدہ کیا تھا کہ وہ لاگت پر 50 فیصد ایم ایس پی دیں گے۔ یہ کسانوں کے ساتھ سب سے بڑا دھوکہ نکلا! گجرات کے کسان کھاد، ڈیزل، جی ایس ٹی، بجلی اور لاگت کی بڑھتی ہوئی قیمتوں سے تنگ آچکے ہیں۔‘‘

انہوں نے دلتوں اور قبائلیوں کے معاملے پر بھی ریاست کی حکمراں بی جے پی پر حملہ بولا۔ انہوں نے کہا، ''دلتوں اور قبائلیوں کا استحصال کیا جاتا ہے، بی جے پی مجرموں کو تحفظ دیتی ہے! اونا کا واقعہ، جس میں انتظامیہ کی حفاظت میں دلتوں کو سرعام زدوکوب کیا گیا، ہر ہندوستانی کے ضمیر کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا! قبائلیوں کے حقوق نہیں دیے گئے، پی ای ایس اے نافذ نہیں کیا گیا۔


کھڑگے نے کہا، ''بی جے پی-آر ایس ایس کی خواتین مخالف ذہنیت نے گجرات کی آدھی آبادی کے حقوق چھین لیے! 15-49 سال کی عمر کی 55 فیصد خواتین خون کی کمی کا شکار ہیں۔ خواتین کے خلاف جرائم کے 100 فیصد مقدمات عدالتوں میں زیر سماعت ہیں۔

کورونا دور کے مسائل کو اجاگر کرتے ہوئے بھی کانگریس صدر نے بی جے پی کو نشانہ بنایا۔ انہوں نے کہا، “کورونا کے دور میں گجرات نے بری طرح متاثر کیا ہے لیکن صحت کے کارکنوں کی بہت زیادہ کمی ہے۔ دیہات کے کمیونٹی ہیلتھ سنٹرز میں 90 فیصد آسامیاں خالی ہیں۔ بی جے پی کی طرف سے لاگو کی گئی غلط نجکاری گجرات کے لاکھوں شہریوں کے لیے صحت کی دیکھ بھال کو ناقابل برداشت بنا رہی ہے۔‘‘

تعلیم کے معاملے پر انہوں نے کہا، ’’بی جے پی نے گجرات میں تعلیم کی سطح کو گرا دیا ہے، بچوں کے مستقبل کو خراب کیا ہے۔ گجرات میں اساتذہ کی 28000 آسامیاں خالی پڑی ہیں۔ 700 پرائمری اسکول ایک ہی استاد کے سہارے چل رہے ہیں۔‘‘


کانگریس صدر نے کہا، ''بی جے پی نے 7 کروڑ گجراتیوں پر 4.5 لاکھ کروڑ کا قرض لاد دیا۔ سی اے جی نے خبردار کیا ہے کہ گجرات قرض کے جال میں پھنستا جا رہا ہے۔ بی جے پی نے گجرات کے لوگوں کو معاشی بوجھ اور سماجی نفرت کے سوا کچھ نہیں دیا۔

انہوں نے کہا، ’’اب وقت آگیا ہے - تبدیلی کا۔ بی جے پی کی 27 سال کی بدانتظامی کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کا۔ اب وقت آگیا ہے مہاتما گاندھی، سردار پٹیل، مرارجی دیسائی، بلون ترائے مہتا، چمن بھائی پٹیل کے گجرات کو دوبارہ تعمیر کیا جائے۔ کانگریس آئے گی، گجرات کے لوگوں کے لیے خوشحالی لائے گی۔‘‘

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔