گریٹر نوئیڈا: پینے کے پانی میں ’ای کولائی‘ نامی بیکٹیریا شامل، صحت کے لیے انتہائی مضر
جانچ رپورٹ میں سامنے آیا ہے کہ 4 نمونوں میں سے ایک گھر کے پانی میں ای کولائی بیکٹیریا موجود ہے، جو صحت کے لیے سنگین خطرہ پیدا کر سکتا ہے۔ اچھی بات یہ رہی کہ 3 نمونے جانچ میں محفوظ پائے گئے۔

گریٹر نوئیڈا کے ڈیلٹا سیکٹر میں گندہ پانی پینے سے گزشتہ کچھ دنوں سے لوگوں کے بیمار پڑنے کی لگاتار مل رہی شکایتوں نے محکمہ صحت کی فکر بڑھا دی۔ الٹی، دست، پیٹ درد اور بخار جیسے مسائل سے نبرد آزما لوگوں کی اطلاع ملنے کے بعد علاقہ میں پانی کے معیار کی جانچ کرائی گئی، جس میں ایک گھر کے پانی کے نمونہ میں خطرناک ’ای کولائی‘ بیکٹیریا کی تصدیق ہوئی ہے۔ اس کے بعد محکمہ نے علاقہ کی نگرانی بڑھا دی ہے۔
سیکٹر ڈیلٹا 1 میں مستقل گھروں میں آلودہ پانی آ رہا تھا، جس کے سبب علاقہ میں صحت سے متعلق شکایتیں بڑھ گئی تھیں۔ اس درمیان سیکٹر ڈیلٹا 1 میں 8 افراد آلودہ پانی پینے کی وجہ سے بیمار ہو گئے۔ لوگوں کو پہلے پیٹ سے جڑے مسائل کا سامنا کرنا پڑا، اس کے بعد الٹی اور دست جیسی شکایتیں دیکھنے کو ملیں۔ اس کو پیش نظر رکھتے ہوئے محکمہ صحت نے جانچ ٹیم کو موقع پر بھیجا۔ ٹیم نے متاثرہ علاقوں کے 4 گھروں سے پینے کے پانی کے نمونے لیے۔ ان میں سے ایک نمونہ باہری سپلائی لائن سے بھی لیا گیا، تاکہ یہ واضح ہو سکے کہ مسئلہ گھر کے اندر ہے یا سپلائی سسٹم میں۔
بدھ کے روز اس کی جانچ رپورٹ سامنے آئی، جس میں 4 نمونوں میں سے ایک گھر کے پانی میں ای کولائی بیکٹیریا موجود ہے۔ یہ بیکٹیریا صحت کے لیے سنگین خطرہ پیدا کر سکتا ہے۔ حالانکہ راحت کی بات یہ رہی کہ باقی 3 نمونے جانچ میں محفوظ پائے گئے۔ اس کے باوجود پورے علاقہ میں احتیاط برتنے کی ہدایت دی گئی ہے۔
ملیریا معاملوں کی افسر شروتی کیرتی ورما نے بتایا کہ جن دیگر 3 گھروں سے پانی کے نمونے لیے گئے تھے، وہاں پانی کی سپلائی ایک ہی ذریعہ سے ہو رہی تھی۔ اس کے باوجود ان نمونوں میں ای کولائی بیکٹیریا نہیں پایا گیا۔ اس بنیاد پر اندیشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ متاثرہ گھر میں یا تو اندرونی پائپ لائن میں گڑبڑی ہے، یا پھر کہیں سے آلودہ پانی سپلائی والے پانی میں مل رہا ہے۔ جس گھر کے پانی میں ای کولائی پایا گیا، اس کنبہ سے فوراً رابطہ کیا گیا ہے۔ انھیں فی الحال پانی اُبال کر پینے اور صاف صفائی بنائے رکھنے کی ہدایت دی گئی ہے۔ ان سے کہا گیا ہے کہ کسی بھی طرح کی علامت نظر آنے پر فوراً مطلع کریں۔ آس پاس کے دیگر کنبوں کو بھی محتاط رہنے کو کہا گیا ہے تاکہ کسی طرح کی لاپروائی سے بیماری نہ پھیلے۔
شروتی کیرتی ورما کا کہنا ہے کہ ای کولائی بیکٹیریا آلودہ پانی وار گندگی کے ذریعہ پھیلتا ہے۔ اس کے کچھ ذرات بے حد خطرناک ہوتے ہیں اور یہ خونی دست، پیٹ میں اینٹھن، الٹی و بخار جیسے سنگین مسائل پیدا کر سکتے ہیں۔ خصوصاً بچوں، بزرگوں اور کمزور قوت مدافعت والے لوگوں کو یہ زیادہ نقصان پہنچا سکتا ہے۔
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔