علی گڑھ میں معصوم کے قتل کی تحقیقات کے لئے ایس آئی ٹی جانچ کا حکم

یو پی حکومت نے علی گڑھ میں ڈھائی سال کی معصوم بچی کے قتل کے معاملے کی تحقیقات خصوصی تحقیقاتی ٹیم (ایس آئی ٹی) کے حوالے کرنے کا اعلان کیا ہے ۔قتل کے ملزم کےخلاف پاکسو ایکٹ کے تحت مقدمہ درج کیا جائے گا۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا

یو این آئی

لکھنؤ: اتر پردیش حکومت نے علی گڑھ میں ڈھائی سال کی معصوم بچی کے قتل کے معاملے کی تحقیقات خصوصی تحقیقاتی ٹیم (ایس آئی ٹی) کے حوالے کرنے کا اعلان کیا ہے ۔قتل کے ملزم کےخلاف پاکسو ایکٹ کے تحت مقدمہ درج کیا جائے گا۔

پولیس کے ڈائریکٹر جنرل (امن و قانون ) آنند کمار نے یہاں جمعہ کو صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ایس آئی آئی کی تشکیل سپرنٹنڈنٹ آف پولیس (دیہی) منی لال پاٹیدار کی قیادت میں کی گئی ہے جو اپنی رپورٹ 15 دن کے اندر پیش کرے گی۔

انہوں نے کہا، ’’فارنسک ٹیم، اسپیشل آپریشن گروپ (ایس او جی) اور ماہرین کی ایک ٹیم ایس آئی ٹی کا حصہ ہو گی جو قتل سے متعلق پہلوؤں کی تحقیقات تیزی سے کرنے میں مدد کرے گی ۔ پولیس کے ڈائریکٹر جنرل نے متاثرہ کی آبروریزی کے اندیشے کو مسترد نہ کرتے ہوئے کہا کہ فارنسک تحقیقات میں حقیقی وجوہات کا پتہ چلے گا ۔

دوسری طرف علی گڑھ کے سینئر سپرنٹنڈنٹ آف پولیس آکاش کولہری علی گڑھ میں صحافیوں کو بتایا کہ پولیس نیشنل سیکیورٹی ایکٹ (این ایس اے ) کے تحت اس معاملے کی تحقیقات کر رہی ہے اور تحقیقات کا کام جلد ہی مکمل کرلیا جائے گا ۔

انہوں نے کہا کہ پوسٹ مارٹم رپورٹ میں، لڑکی کے ساتھ زیادتی یا تیزاب سے جلانے کی کوئی تصدیق نہیں ہوئی ہے۔ اس سلسلے میں، پولیس نے دو افراد کو گرفتار کر لیا ہے جن پر متاثرہ کے رشتہ دار نے الزام لگایا تھا۔ اس معاملے میں ٹپل پولیس اسٹیشن کے پولیس انسپکٹر سمیت 5 پولیس اہلکاروں کو معطل کر دیا گیا ہے۔

دریں اثنا حیوانیت کی شکار ڈھائی سالہ بچی کی ماں نے ملزمان کو سزائے موت دینے کا مطالبہ کیا ہے۔ انہوں نے کہا، ’’میں وزیر اعظم نریندر مودی اور وزیر اعلی یوگی آدیتہ ناتھ حکومت سے اپیل کرتی ہوں کہ میری بیٹی کے مجرموں کو سخت سزا دی جانی چاہئے۔ ہم ملزمان کی پھانسی کا مطالبہ کرتے ہیں۔ اگر وہ سات سال بعد جیل سے باہر نکلیں تو اسی طرح کسی اور بچی کو نشانہ بنائیں گے۔