لیک سے ہٹ کر کام کر رہی ہے حکومت: مودی

وزیر اعظم مودی نے کہا کہ ان کی حکومت لکیر سے ہٹ کر اور نئی لکیر بناکر تیز رفتاری سے کام رہی ہے اور عوام نے جس اعتماد کے ساتھ انہیں اقتدار سونپا ہے انہیں پوری رفتار کے ساتھ پورا کر رہی ہے

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا
user

یو این آئی

نئی دہلی: وزیر اعظم نریندر مودی نے جمعرات کو کہا کہ ان کی حکومت لکیر سے ہٹ کر اور نئی لکیر بناکر تیز رفتاری سے کام رہی ہے اور عوام نے جس اعتماد کے ساتھ انہیں اقتدار سونپا ہے اس پر کھرا اترنے کے لئے تمام زیر التوا کاموں کو پوری رفتار کے ساتھ پورا کر رہی ہے۔

مودی نے لوک سبھا میں صدر کے خطاب پر تحریک شکریہ پر تین دن تک جاری رہنے والی بحث کا جواب دیتے ہوئے ہندی کے مشہور شاعر سریشور دیال سکسینہ کی ایک نظم کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ وہ لیک پر چل کر کام نہیں کرتے بلکہ نئے انداز میں اور عوامی جذبات کے مطابق کام کرنے پر بھروسہ کرتے ہیں لہذا لیک سے ہٹ کر چلتے ہیں۔

انہوں نے اپنی تقریر کے آغاز میں ہی اپنے کام کو لے کر سکسینہ کی شاعری کو سرچشمہ بتایا اور نظم پڑھی -’’لیک پر وہ چلیں، جن کے چرن دربل اور ہارے ہوں، ہمیں تو، جو ہماری یاترا سے بنیں، ایسے اَنِرمت پتھ ہی پیارے ہیں‘‘۔

مودی نے کہا کہ ان کے کام کو لوگوں نے پانچ سال تک دیکھا ہے اور ان پر اعتماد کیا ہے اس لئے لوگوں نے اس بار ان سے پہلے کے مقابلے میں زیادہ طاقت کے ساتھ پارلیمنٹ میں بھیجا ہے۔ عوام نے نئی طاقت کے ساتھ ان کی حکومت ہی نہیں بنائی بلکہ سروکار تبدیل کرنے کا عزم کیاہے۔ انہوں نے کہا کہ ایسے حالات میں ان کے اور تیز رفتار سے کام کرنے اور دیرینہ التوا پڑے عوامی عزائم کو پورا کرنا ہے اور اسی لیے وہ نئی رفتار کے ساتھ اور لیک سے دہائیوں پرانے مسائل کو حل کر رہے ہیں۔

آرٹیکل- 370 ہٹانے، رام جنم بھومی تنازع حل کرنے، چیف آف ڈیفنس اسٹاف کی تقرری، بچوں سے عصمت دری کے لئے پھانسی کی سزا کا قانون اور تین طلاق کو غیر قانونی قرار دینے جیسے بڑے فیصلوں کا ذکر کرتے ہوئے مودی نے کہا کہ 70 سال بعد ملک اب زیادہ طویل عرصہ انتظار کرنے کے لئے تیار نہیں ہے۔

وزیر اعظم نے اپوزیشن پارٹیوں، خاص طور پر کانگریس کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا ’’اگر ہم اسی طریقہ سے چلتے جیسے آپ چلے تھے، اسی راستے پر چلتے جس کی آپ کو عادت ہو گئی تھی تو 70 سال بعد بھی آرٹیکل 370 نہیں ہٹتا، مسلم بہنیں تین طلاق کی تلوار سے خوفزدہ رہتیں، نابالغوں سے عصمت دری پر پھانسی کا التزام نہیں ہوتا، رام جنم بھومی آج بھی متنازع رہتی، کرتارپور کوریڈور کبھی نہیں بن پاتا، ہندوستان -بنگلہ دیش سرحدی تنازع کبھی حل نہیں ہو پاتا‘‘۔

انہوں نے کہا کہ آج دنیا کی ہندوستان سے جو توقع ہے، اگر ہم چیلنجوں کو چیلنج نہیں دیتے، سب کو ساتھ لے کر آگے بڑھنے کی ہمت نہیں دکھاتے تو ملک کے مسائل حل نہیں ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ نئی راہ بناکر چلنا چاہتے ہیں کیونکہ ملک اب طویل عرصہ تک انتظار کرنے کے لئے تیار نہیں ہے اور ملک کے عوام پرانی رفتار سے چلنے کے لئے تیار نہ ہونا فطری بھی ہے۔

مودی نے کہا کہ اگر حکومت کے کام کرنے کی رفتار تیز نہیں ہوتی تو 37 کروڑ بینک اکاؤنٹ کبھی نہیں کھل پاتے، 11 کروڑ گھروں میں بیت الخلا نہیں بن پاتے، 13 کروڑ خاندانوں کو گیس کنکشن نہیں مل پاتے، دو کروڑ غریبوں کے گھر نہیں بن پاتے، دہلی کی 1700 سے زیادہ غیر قانونی کالونیوں کے 40 لاکھ لوگوں کو اپنے گھر ہونے کا حق نہیں مل پاتا۔

انہوں نے کہا کہ اگر ان کی حکومت کانگریس کے راہ پر چلتی تو دشمن جائیداد کے لئے اور لمبا انتظار کرنا پڑتا، جیٹ فائٹر طیاروں کے لئے 35 سال اور انتظار کرنا پڑتا، گمنام قانون کو لاگو کرنے کے لئے 28 سال اور رکنا پڑتا اور چیف آف ڈیفنس اسٹاف- سی ڈی ایس کی تقرری کے لئے ملک کو 20 سال اور انتظار کرنا پڑتا۔

next