’حکومت ذات پر مبنی مردم شماری کو ٹھنڈے بستے میں ڈالنا چاہتی ہے‘، کانگریس نے دلیلوں کے ساتھ مودی حکومت پر کیا حملہ
ڈاکٹر انل جے ہند نے کہا کہ ’’آر ایس ایس اور بی جے پی کے لوگوں کو معلوم ہے کہ اگر 2027 تک ذات پر مبنی مردم شماری کے اعداد و شمار آ گئے تو ان پر او بی سی خواتین کو بھی ریزرویشن دینے کا دباؤ ہوگا۔‘‘

خواتین ریزرویشن بل پر بحث کے لیے مودی حکومت کے ذریعہ بلائے جا رہے پارلیمنٹ کے خصوصی اجلاس پر کانگریس نے جم کر حملہ بولا ہے۔ کانگریس او بی سی ڈپارٹمنٹ کے چیئرمین ڈاکٹر انل جے ہند نے اس تعلق سے منعقد ایک پریس کانفرنس میں کہا کہ ’’خواتین ریزرویشن قابل بحث موضوع نہیں ہے، بات اب صرف اس کے نفاذ کی ہے۔ کل 16 اپریل سے مودی حکومت پارلیمنٹ کا ایک خصوصی اجلاس بلا رہی ہے، جس میں حکومت کچھ ترامیم لے کر آئے گی۔‘‘
ڈاکٹر انل جے ہند کے مطابق مودی حکومت نے اس سے قبل خود خواتین کے ریزرویشن کے لیے ایک روڈ میپ بنایا تھا، جس میں کہا گیا تھا کہ پہلے 2027 میں ذات پر مبنی مردم شماری ہوگی۔ اس کی بنیاد پر حد بندی کی جائے گی، تب جا کر خواتین ریزرویشن نافذ کریں گے۔ انہوں نے پریس کانفرنس کے دوران مزید کہا کہ ’’انڈیا اتحاد نے کہا تھا کہ اسے 2024 میں ہی نافذ کر دیجیے، لیکن نریندر مودی نے کسی کی نہیں سنی، وہ نافذ نہیں ہوا۔ اب سننے میں آ رہا ہے کہ مودی حکومت 2011 کی مردم شماری پر اسے نافذ کرے گی، جو اب ٹھیک نہیں ہے، کیونکہ ڈیموگرافی میں بہت تبدیلی آ چکی ہے۔ اگر حکومت کو 2011 کی بنیاد پر ہی خواتین ریزرویشن نافذ کرنا تھا تو پہلے کیوں نہیں کیا۔‘‘
کانگریس لیڈر نے اپنی بات کو جاری رکھتے ہوئے کہا کہ ’’مودی حکومت ذات پر مبنی مردم شماری کو ٹھنڈے بستے میں ڈالنا چاہتی ہے، اس کے پیچھے کچھ دلائل ہیں جنہیں آپ جان لیجیے۔ 20 جولائی 2021 کو پارلیمنٹ میں مودی حکومت نے بتایا کہ حکومت نے ایک پالیسی کے تحت فیصلہ کیا ہے کہ مردم شماری میں ایس سی/ایس ٹی کے علاوہ دیگر ذاتوں کی گنتی نہیں کی جائے گی۔ 21 ستمبر 2021 کو مودی حکومت نے سپریم کورٹ میں ایک حلف نامہ داخل کیا، جس میں کہا گیا تھا کہ حکومت نے ذات پر مبنی مردم شماری نہ کرانے کا پالیسی پر مبنی فیصلہ لیا ہے۔‘‘ ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ ’’24 اپریل 2024 کو نریندر مودی نے ایک انٹرویو میں کہا کہ ذات پر مبنی مردم شماری کی بات کرنے والے ’اربن نکسل‘ ذہنیت کے ہیں۔ 30 اپریل 2025 کو کابینہ کی ایک میٹنگ ہوئی، جس کے بعد حکومت کے ایک وزیر نے کہا کہ ہم ذات پر مبنی مردم شماری کرائیں گے۔‘‘
پریس کانفرنس کے دوران انل جے ہند نے کہا کہ ’’یہ فیصلہ اس لیے لیا گیا، کیونکہ انصاف کے علمبردار راہل گاندھی جی نے بھارت جوڑو نیائے یاترا میں آئین کی حفاظت اور ذات پر مبنی مردم شماری کا معاملہ اٹھایا تھا۔ اس کا اثر یہ ہوا کہ لوک سبھا انتخاب میں 400 پار کا نعرہ دینے والی بی جے پی 240 پر رہ گئی۔ اس نتیجیے کے بعد آر ایس ایس-بی جے پی کی بند کمروں میں کئی میٹنگیں ہوئیں اور آخر میں فیصلہ لیا گیا کہ ذات پر مبنی مردم شماری کرائی جائے گی۔ لیکن حقیقت میں آر ایس ایس-بی جے پی کے لوگ منو وادی ذہنیت کے حامل ہیں۔ ان لوگوں کو معلوم ہے کہ اگر 2027 تک ذات پر مبنی مردم شماری کے اعداد و شمار آ گئے تو ان پر او بی سی خواتین کو بھی ریزرویشن دینے کا دباؤ ہوگا۔ ایسے میں یہی اہم وجہ ہے کہ مودی حکومت ذات پر مبنی مردم شماری کو ٹھنڈے بستے میں ڈالنا چاہتی ہے۔‘‘
’اے آئی سی سی او بی سی ڈپارٹمنٹ‘ کے چیئرمین کے مطابق مردم شماری کے کمشنر نے کہا ہے کہ مردم شماری کے اعداد و شمار 2027 میں ہی آنے شروع ہو جائیں گے۔ لیکن اب مودی حکومت آرٹیکل 334(اے) میں یہ کہتے ہوئے ترمیم کرنا چاہتی ہے کہ ذات پر مبنی مردم شماری کے نتائج کچھ سالوں تک دستیاب نہیں ہو پائیں گے۔ اس سے واضح طور پر پتہ چلتا ہے کہ مودی حکومت بڑے پیمانے پر جھوٹ بول رہی ہے اور گمراہی پھیلا رہی ہے۔ ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ ’’مودی حکومت کا حقیقی چھپا ہوا ایجنڈا یہ ہے کہ ذات پر مبنی مردم شماری نہ کروائی جائے اور او بی سی کے خواتین کو ریزرویشن سے محروم رکھا جائے۔ ایسے میں او بی سی طبقہ کی خواتین کو لوک سبھا میں نمائندگی کا موقع نہیں ملے گا۔ اگر جمہوریت میں اتنے بڑے طبقے کو ریزرویشن سے محروم رکھا جائے گا، تو یہ سیدھے طور پر جمہوریت کا قتل ہے۔‘‘ انل جے ہند نے یہ بھی کہا کہ ’’میں یاد دلا دوں کہ جب راجیو گاندھی نے 73ویں اور 74ویں آئینی ترمیم کی تھی، تب اس میں او بی سے کے ریزرویشن کا التزام رکھا تھا۔ اس لیے یہ کوئی روایت نہیں ہے۔‘‘