حکومت اسپیکر کے اختیارات پر دوبارہ غور و خوض کرے : سپریم کورٹ

اراکین پارلیمنٹ اور اراکین اسمبلی کو نااہل قرار دینے کے معاملے میں ایوان کے اسپیکر کے اختیارات کے تعلق سے سپریم کورٹ کے فیصلے سے ملک کے سیاسی منظر نامے میں تبدیلی آئے گی ۔

سوشل میڈیا
سوشل میڈیا
user

یو این آئی

سپریم کورٹ نے پارلیمنٹ کو منگل کے روز مشورہ دیا کہ وہ اراکین پارلیمنٹ اور اراکین اسمبلی کو نااہل قرار دینے کے معاملے میں پارلیمنٹ کے اسپیکر کے اختیارات پر دوبارہ غوروخوض کرے۔سپریم کورٹ نے صلاح دی ہے کہ سبکدوش ججوں کی کمیٹی کو رکنیت رد کرنے یا برقرار رکھنے کا حق دیا جائے۔ یہ کمیٹی یا کوئی ٹریبونل برسوں کام کرے جہاں رکنیت سے متعلق مسائل حل کیے جائیں۔

جسٹس آر ایف نریمن کی صدارت والی بینچ نے منی پور کے وزیر جنگلات ٹی شیام کمار کی نا اہلیت کے معاملے پر فیصلہ سناتے ہوئے کہا کہ کسی بھی رکن پارلیمنٹ یا رکن اسمبلی کی رکنیت رد کرنے میں اسپیکر کے اختیارات پر غوروخوض کرنے کی ضرورت ہے کیونکہ اسپیکر کی وفاداری ایک پارٹی کےساتھ ہوتی ہےاور وہ غیر جانبدار نہیں ہوسکتا۔

سپریم کور ٹ نے پارلیمنٹ سے کہا ہے کہ وہ اس پر غوروخوض کرکے قانون بنائے۔ عدالت کا کہنا ہے کہ اسپیکر کسی نہ کسی سیاسی پارٹی کا ہوتا ہے اس لیے وہ غیرجانبدار فیصلے نہیں کر سکتا۔ سپریم کورٹ نے منی پوراسمبلی کے اسپیکر سے کہا کہ وہ ٹی شیام کمار کی نااہلیت پر چار ہفتے میں فیصلہ کریں۔ اگر اسپیکر چار ہفتے میں فیصلہ نہیں کرتے ہیں تو عرضی گزار بھی سپریم کورٹ آسکتے ہیں۔

غور طلب ہے کہ کانگریس کے رکن اسمبلی فیض الرحیم اور کے میگھ چندر نے وزیر ٹی شیام کمار کو نااہل ٹھہرائے جانے کے لیے سپریم کورٹ میں عرضی دائر کی تھی۔

کانگریس نے اراکین پارلیمنٹ اور اراکین اسمبلی کو نااہل قرار دینے کے معاملے میں ایوان کے اسپیکر کے اختیارات کے تعلق سے سپریم کورٹ کے فیصلے کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس سے ملک کے سیاسی منظر نامے میں تبدیلی آئے گی ۔

کانگریس کے سینئر لیڈر کَپل سبل نے منگل کو یہاں پارٹی ہیڈکوارٹر میں پریس کانفرنس میں کہا کہ اس فیصلے سے پارلیمنٹ کو آئین کی دسویں فہرست میں تبدیلی کرنی پڑے گی اور ایسا کرنے پر ارکان کو نااہل قراردینے کے معاملے میں اسپیکر کی من مانی ختم ہو جائے گی ۔انہوں نے کہا کہ اس فیصلے میں سب سے اہم بات یہ ہے کہ ارکان کی اہلیت کے سلسلے میں اسپیکر کو تین ماہ کے اندر اندر اپنا فیصلہ دینا ہے ۔ اس میں بڑی بات یہ ہے کہ اگر فیصلہ تین ماہ میں نہیں ہوتا ہے اور اس میں دیر لگتی ہے تو اسپیکر کو تاخیر کی وجوہات بتانی ہو گی ۔ فیصلے کے مطابق پارلیمنٹ کو ایک آزاد ٹربیونل بنانا ہے جس کو اس سلسلے میں رولنگ دینی ہے ۔

واضح رہے کہ سپریم کورٹ نے منی پور کے وزیر جنگلات ٹی شيام کمار کی نااہلی کے معاملے پر فیصلہ سناتے ہوئے آج پارلیمنٹ کو مشورہ دیا کہ وہ اراکین پارلیمنٹ اور اراکین اسمبلی کو نااہل قرار دینے کے معاملے میں اسپیکر کے اختیارات پر پھر سے غور کرے ۔ عدالت کا کہنا تھا کہ اسپیکر کسی نہ کسی سیاسی پارٹی سے ہوتا ہے اور وہ غیر جانبدارانہ فیصلے نہیں لے سکتا ،لہذا ریٹائرڈ ججوں کی کمیٹی کو رکنیت منسوخ کرنے یا برقرار رکھنے کا حق دیا جانا چاہئے ۔