حکومت گنے کی قیمت 450 روپئے فی کوئنٹل کرے: بھارتیہ کسان یونین

بھارتیہ کسان یونین مطالبہ کرتی ہے کہ موجودہ پیرائی سیشن میں قیمت 450 روپئے فی کوئنٹل کرنی چاہیے۔ بصورت دیگر 21 دسمبر کو سبھی کسان ضلع ہیڈکوارٹر پر جمع ہوکر ’ہل کرانتی تحریک‘ کا آغاز کریں گے

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا

یو این آئی

مظفر نگر: بھارتیہ کسان یونین نے گنا پیداوار پر بڑھتے اخراجات کا حوالہ دیتے ہوئے وزیر اعلی یوگی آدتیہ ناتھ کو خط لکھ کر پیرائی سیشن 2019۔20 کے لئے گنے کی قیمت 450 روپئے فی کوئنٹل کیے جانے کا مطالبہ کیا ہے۔

بھارتیہ کسان یونین کے ترجمان راکیش ٹکیت نے جمعرات کو وزیر اعلی کو بھیجے گئے خط میں کہا کہ گنے پر آنے والے اخراجات میں کافی اضافہ ہوگیا ہے۔ کسانوں کی سینچائی میں استعمال ہونے والی بجلی کی قیمتیں دو گنی اور کھاد، ڈیزل، جرائم کش دوائیں وغیرہ کی قیمتوں میں 20 فیصد تک اضافہ ہوگیا ہے جس سے گنا کسانوں کو لگاتار نقصان کا سامنا کرنا پڑرہا ہے۔ سال 2016۔17 تا2018۔19 تک گنے کی رکوری میں دو فیصدی اضافہ ہوا ہے۔ اس سے چینی ملوں کو فی کوئنٹل 60 روپئے کا فائدہ ہوا ہے۔

انہوں نے خط میں کہا کہ موجودہ پیرائی سیشن شروع ہوچکا ہے لیکن گنے کی قیمتوں کا ابھی تک اعلان نہیں کیا گیا ہے جس سے کسانوں میں کافی اشتعال ہے۔ موجودہ وقت میں گنا کسانوں کی فی کوئنٹل گنے پیداوار پر آنے والے اخراجات کی قیمت 300 روپئے سے زیادہ ہے۔ سرکار کے وعدے کے مطابق گنا کسانوں کو سوامی ناتھ کمیٹی کے مطابق اخراجات میں 50 فیصد جوڑ کر گنا کی قیمتوں کا اعلان کرنا ضروری ہے۔

انہوں نے کہا کہ بھارتیہ کسان یونین مطالبہ کرتی ہے کہ موجودہ پیرائی سیشن کے لئے گنے کی قیمت بلا تأخیر 450 روپئے فی کوئنٹل کے حساب سے کرنی چاہیے۔ بصورت دیگر کسان یونین کی اپیل پر 21 دسمبر کو سبھی کسان ضلع ہیڈکوارٹر پر جمع ہوکر ’ہل کرانتی تحریک‘ کا آغاز کر یں گے۔