روی داس مندر کی تعمیر نو کے لئے حکومت زمین دینے کو تیار: اٹارنی جنرل

مرکزی حکومت نے آج سپریم کورٹ کو مطلع کیا کہ لوگوں کے اعتقاد کا احترام کرتے ہوئے قومی دارالحکومت کے تغلق آباد میں روی داس مندر بنانے کے لئے وہ زمین دینے کو تیار ہے

تصویر سپریم کورٹ
تصویر سپریم کورٹ
user

یو این آئی

نئی دہلی: مرکزی حکومت نے آج سپریم کورٹ کو مطلع کیا کہ لوگوں کے اعتقاد کا احترام کرتے ہوئے قومی دارالحکومت کے تغلق آباد میں روی داس مندر بنانے کے لئے وہ زمین دینے کو تیار ہے۔ مرکزی حکومت کی طرف سے اٹارنی جنرل کے کے وینو گوپال نے جسٹس ارون مشرا کی صدارت والی بنچ کو بتایا کہ اس سلسلے میں مرکزی حکومت نے طے کیا ہے کہ لوگوں کی آستھا کا احترام کرتے ہوئے 200مربع میٹر زمین کمیٹی کو دے دی جائے۔

انہوں نے بتایاکہ سات میں سے پانچ فریقین سے بات ہوچکی ہے اور مرکزی حکومت کے افسروں نے بھی اپنی منظوری دے دی ہے۔ عدالت نے وینوگوپال کے بیان کو ریکارڈ پر لیتے ہوئے معاملے کو 21 اکتوبر کو سماعت کے لئے اندراج کرلیا۔ خیال رہے کہ گذشتہ 4 اکتوبر کو عدالت نے کہا تھا کہ تمام فریقین اٹارنی جنرل سے مل کر اس معاملے میں کسی دوسری زمین پر مندر کی تعمیر کے لئے حل نکالیں۔ اس کے بعد اس معاہدہ کو بنچ کے سامنے پیش کرے، تاکہ عدالت کو ئی حکم دے سکے۔ عرضی گذاروں ہریانہ کانگریس کے سابق صدر اشوک تنور اور دیگر نے مندر کی تعمیر نو کا مطالبہ کیا ہے۔


ان کی عرضیوں میں کہا گیا ہے کہ پوجا کا حق آئینی حق ہے۔ایسے میں مندر کی تعمیر نو کرانے کے ساتھ دوبارہ مورتی نصب کی جائے۔عرضی میں کہا گیا ہے کہ مندر 600سال سے بھی زیادہ پرانا ہے۔ لہذا اس پر نئے قانون نافذ نہیں ہوتے۔ عرضی میں پوجا کے حق اور دفعہ21 اے کا بھی حوالہ دیا گیا ہے۔ عرضی میں کہا گیا ہے کہ سپریم کورٹ نے کبھی مندر توڑنے کا حکم نہیں دیا بلکہ اسے شفٹ کرنے کی بات کہی تھی اور جس طرح سے مندر کو توڑا گیا وہ بڑی سازش کا حصہ ہے۔

عدالت عظمی کے حکم پر ہی گرو روی داس مندر کو منہدم کیا گیا تھا۔ اس نے گذشتہ 9اگست کو دہلی ڈیولپمنٹ اتھارٹی کو ڈھانچہ گرانے کا حکم دیا تھا۔ عدالت عظمی کی ہدایت پر کارروائی کرتے ہوئے ڈی ڈی اے نے 10اگست کو مندر منہدم کردیا تھا۔

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔


Published: 18 Oct 2019, 5:01 PM