کیا مودی حکومت نے عمر اور محبوبہ سے بات چیت کے دروازے کھول دیئے!

حکومت نے جموں و کشمیر کے سابق وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کے ساتھ ڈائیلاگ کے لئے چینل کھول دیا ہے، دونوں کو آئین کے آرٹیکل 370 کی شقوں کو منسوخ کئے جانے کے بعد گرفتار کر لیا گیا تھا۔

سوشل میڈیا 
سوشل میڈیا
user

قومی آوازبیورو

سری نگر: حکومت نے جموں و کشمیر کے سابق وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کے ساتھ ڈائیلاگ کے لئے چینل کھول دیا ہے۔ اسی مہینے آئین کے آرٹیکل 370 کی شقوں کو منسوخ کئے جانے کے بعد دونوں وزرائے اعلیٰ کو گرفتار کر لیا گیا تھا۔

علیٰ عہدے پر فائز ذرائع کے مطابق مختلف مرکزی ایجنسیوں کے ارکان کا ایک وفد کچھ شرائط کے ساتھ دونوں رہنماؤں کو رہا کرنے کی اجازت دینے کے حوالہ سے سرینگر میں ان سے ملا تھا۔ حکومت مرکزی دھارے کے رہنماؤں کو رہا کر کے ان کو اپنی پارٹی کے کارکنان سے ملاقات کی اجازت دینا چاہتی ہے لیکن حکومت نہیں چاہتی کہ وہ کوئی بیان جاری کریں یا ایسی کسی سرگرمی میں شامل ہوں جس سے وادی کشمیر کے حالات خراب ہوں۔

ذرائع کے مطابق عمر عبد اللہ نے اپنا رد عمل ظاہر کرنے کے لئے کچھ اور وقت مانگا ہے، جبکہ حریت رہنما میر واعظ عمر فاروق کو اسی ہفتہ رہا کر دیا گیا ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ انہوں نے کوئی اشتعال انگیز بیان نہیں دینے کا وعدہ کیا ہے۔ گرفتاری کے بعد عمر عبد اللہ اور محبوبہ مفتی کو لوگوں سے ملنے سے منع کر دیا گیا ہے۔ عمر عبد اللہ کو ہری نواس میں قید رکھا گیا ہے جبکہ محبوبہ مفتی کہ چشمہ شاہی گیسٹ ہاؤس میں رکھا گیا ہے۔

عمر عبد اللہ کے والد اور سابق وزیر اعلیٰ فاروق عبد اللہ کو بھی گپکر روڈ واقع ان کے گھر میں نظر بند رکھا گیا ہے۔ ان کو بھی کسی سے ملاقات کی اجازت نہیں ہے۔ نیشنل کانفرنس اور پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی (پی ڈی پی) دنوں جماعتوں کے سرینگر میں واقع صدر دفاتر ویران پڑے ہیں۔ دفاتر کے نزدیک صرف سیکورٹی اہلکار موجود ہیں۔

ماہرین کا خیال ہے کہ حکومت کی طرف سے اٹھائے گئے اس قدم کا مقصد ریاست کے مرکزی دھارے کے سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں کی گرفتاری کے حوالہ سے ہو رہی تنقید سے بچنا ہو سکتا ہے۔

Published: 25 Aug 2019, 9:10 AM