’حکومت صرف جملے بازی کرتی ہے‘، راجستھان میں ایس آئی بھرتی منسوخ ہونے پر کانگریس کا شدید ردعمل
راجستھان کانگریس کے ریاستی صدر گووند سنگھ ڈوٹاسرا نے ان امیدواروں کی بھی حمایت کی جو اپنی محنت اور ایمانداری سے منتخب ہوئے تھے۔ انہوں نے کہا کہ سبھی لوگوں کو ایک ہی نظر سے دیکھنا ٹھیک نہیں ہے۔

راجستھان پولیس میں تقریباً 850 سب انسپکٹرز(ایس آئی) کی تقرریوں کی منسوخی کے معاملے اب سیاسی ہنگامہ شروع ہوگیا ہے۔ کانگریس پارٹی نے اس معاملے پر ریاست کی بھجن لال شرما حکومت کو نشانہ بناتے ہوئے کئی سوالات اٹھائے ہیں۔ ریاستی کانگریس کے صدر گووند سنگھ ڈوٹاسرا نے کہا کہ حکومت کو بتانا چاہئے کہ وہ گزشتہ ڈھائی سالوں سے کیا کر رہی تھی۔ ڈوٹاسرا نے کہا کہ اگر بھرتی کے عمل میں کسی طرح کی بے ضابطگیاں تھیں تو حکومت کو پہلے ہی کارروائی کرنی چاہئے تھی۔ انہوں نے کہا کہ اگر بروقت قصورواروں کے خلاف سخت کارروائی کی جاتی تو آج اتنی بڑی تعداد میں منتخب سب انسپکٹرز کو نوکریوں سے ہاتھ دھونا نہیں پڑتا۔
کانگریس کے ریاستی صدر نے ان امیدواروں کی بھی حمایت کی جو اپنی محنت اور ایمانداری سے منتخب ہوئے تھے۔ انہوں نے کہا کہ سبھی لوگوں کو ایک ہی نظر سے دیکھنا ٹھیک نہیں ہے۔ کئی ایسے نوجوان ہیں جنہوں نے بڑی محنت سے امتحان پاس کر کے پولیس سروس میں شامل ہوئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کو ایسے امیدواروں کے لیے کوئی راستہ نکالنا چاہیے، کیونکہ بہت سے لوگوں نے سب انسپکٹر بننے کے لیے دوسری نوکریاں چھوڑ دی تھیں۔ اب، ان میں سے بہت سے امیدوار عمر کی حد پار کرچکے ہیں اور دوسری سرکاری ملازمتوں کے اہل بھی نہیں رہے۔
ڈوٹاسرہ نے کہا کہ اگر بھرتی میں بے ضابطگیوں میں ملوث افراد کے خلاف پہلے کارروائی کی جاتی تو آج ایماندار امیدواروں کو اس کی قیمت ادا نہیں کرنی پڑتی۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کی لاپرواہی کا خمیازہ اب ان نوجوانوں کو بھگتنا پڑ رہا جنہوں نے بہتر مستقبل کی امیدوں کے ساتھ اس ملازمت میں شمولیت اختیار کی۔
کانگریس لیڈر نے ریاستی حکومت کو نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ موجودہ حکومت ہر معاملے کو سیاسی فائدے اور نقصان کے نقطہ نظر سے دیکھتی ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ حکومت صرف جملے بازی کرتی ہے اور بروقت فیصلے نہیں کرتی ہے۔ اب جب معاملہ بڑا ہو گیا ہے، تب کارروائی کی جا رہی ہے جس سے ہزاروں خاندان متاثر ہو رہے ہیں۔
Follow us: WhatsApp, Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
